Loading
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے صوبے کی تقسیم کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہفتے کے روز اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی ٰسندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم کیخلاف قرار داد پیش کی جس کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین نے بھی اس کی حمایت کی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا، سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی ۔ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے۔
قرارداد میں ایوان کی جانب سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ کچھ جگہوں پرایسے اجلاس ہوئے جہاں بات ہوئی کہ سندھ کو توڑ دیا جائے اور کراچی کو الگ کردیا جائے، میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صوبہ سندھ نے بنایا تھا۔ پاکستان سے محبت کرنے والا ہر شخص اس قرارداد کی تائید کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کی جو بھی مخالفت کرے گا ایسا سمجھا جائے گا کہ وہ سندھ کو توڑنے کی بات کر رہاہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میری قرارداد میں کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں ہے، پاکستان کی قرارداد اسی سندھ اسمبلی نے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں پاس کی تھی۔ محترمہ کو جب شہید کردیا گیا تھا تو اس وقت بھی صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس قرارداد کی حمایت دونوں طرف بیٹھے لوگ کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، موہن جو دڑو کی سرزمین، وادی سندھ تہذیب کا گہوارہ ہے، سندھ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لعل شہباز قلندر کی دھرتی ہے، سندھ کی شناخت، زبان اور ثقافتی تسلسل جدید سیاسی سرحدوں سے قبل کا ورثہ ہے،تاریخی یلغاروں، سلطنتوں اور نوآبادیاتی ادوار کے باوجود سندھ کی وحدت برقرار رہی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں کئی حملہ آور آئے اور چلے گئے مگر سندھ متحد اور ناقابل تقسیم رہا، کراچی تاریخی طور پر کولاچی کے نام سے معروف تھا، یہ سندھ کی سرزمین سے ابھرنے والا شہر ہے، کراچی سندھ کی بندرگاہ، تجارتی مرکز اور دنیا سے رابطے کا دروازہ ہے، قیام پاکستان کے بعد 1947 میں پہلا دارالحکومت بننے کے باوجود کراچی جغرافیائی، تاریخی اور جذباتی طور پر سندھ سے جدا نہیں ہوا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 1936 میں طویل آئینی و جمہوری جدوجہد کے بعد سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی تاریخی سنگ میل ہے۔
قرارداد کے مطابق سندھ کی سیاسی شناخت کی بحالی عوام کی قربانیوں اور شعور کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کی قرارداد میں 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد پاکستان کا تاریخی حوالہ بھی دیا گیا اس میں یاد دلایا گیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے مطالبے کی توثیق میں سندھ کا کلیدی کردار تھا اورسندھ اسمبلی پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنے والی اولین صوبائی اسمبلی تھی۔جس اسمبلی نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی وہ اپنی تاریخی سرزمین کی تقسیم کی اجازت نہیں دے سکتی۔
قرارداد میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 1955 میں ون یونٹ اسکیم کی مخالفت سندھ کے عوام کی مزاحمت تھی، 1970میں سندھ کی الگ حیثیت کی بحالی عوام کے عزم کی گواہی تھی۔
قرارداد کے مطابق1973 کے آئین میں وفاقی ڈھانچے کی توثیق کی گئی ہے، آرٹیکل 239 کے تحت دو تہائی اکثریت کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی ناممکن ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ کو پاکستان فیڈریشن میں تاریخی اور جداگانہ اکائی کے طور پر شامل کیا گیا۔ سندھ قرارداد پاکستان منظور کرنے والا پہلا صوبہ ہے، کراچی سے کیٹی بندر، کشمور سے کارونجھر تک عوام کی مشترکہ کاوشوں کا اعتراف ہے ۔
قرارداد کے مطابق کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اتحاد کی علامت ہے، سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے، ایوان کی جانب سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ کرنے کی مذمت و مخالفت کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل