Loading
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر ہم نے دھرنا دیا مگر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا، اگر بانی کا علاج ذاتی ڈاکٹر سے نہ ہوا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور پریس کلب کی باڈٰ کی تقریب حلف برداری میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ کے مشکل ترین حالات میں ہمارے صحافیوں نے کام کیا جولائق تحسین ہے، ہم صحافت کومضبوط دیکھناچاہتے ہیں۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم صحافیوں کی اظہاررائے کی آزادی پریقین رکھتے ہیں، کوئی قدغن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بیس سالوں سے دیشت گردی کی زد میں ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے مسئلے پر ہم نے پرامن دھرنا دیا لیکن حکمرانوں نے بے حسی کامظاہرہ کیا، اگر اس معاملے پر ہم سیاست کرنا چاہتے تو رویہ کچھ اورہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بانی کاذاتی ڈاکٹروں تک رسائی کامطالبہ جائز ہے لیکن کچھ لوگ آئین کوہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، بانی کی آنکھ خراب ہے لیکن مناسب علاج نہیں ہورہا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی نے ایک بھگوڑے کو جعلی پلیٹسلیٹس گرنے پرعلاج کے لیے بیرون ملک جانے دیا جبکہ عمران خان کو زخمی ٹانگ کے ساتھ عدالت بلایاجاتا تھا اوربھگوڑے کے لیے عدالت ائیرپورٹ پہنچی تھی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالت بھی اڈیالہ میں بند ہوچکی یے، عمران کوذاتی معالجین سے علاج کرانے دیا جائے ورنہ حالات خراب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے تیراہ کے لوگوں کے لیے چارارب کا اعلان کیا تو سب گلے پڑگئے لیکن آج مریم گیارہ ارب کا طیارہ خریدتی یے اوراسے کچھ نہیں کہاجاتا، یہ جعلی حکومت 5300ارب کی کرپشن کرچکی لیکن سب خاموش ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وفاق ہمیں ہمارے 4700ارب کے بقایاجات ادانہیں کرتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل