Saturday, February 21, 2026
 

کیا غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے ؟

 



غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے دو سربراہی اجلاس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میا ں شہباز شریف نے دونوں اجلاس میں شرکت کی ہے۔ پہلے اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں اپنی فوجیں بھیجنی چاہیے۔ انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد مسلم ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو غزہ میں تعینات ہونے والی عالمی فورس کا ڈپٹی کمانڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔ اس لیے جب بھی بورڈ آف پیس کا اجلا س ہو تا ہے، قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا اس اجلاس میں پاکستان فوج بھیجنے کا اعلان کر دے گا۔ کچھ دوست پراپیگنڈا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ امریکی دباؤ کی بھی بات کی جاتی ہے۔ میری رائے میں اب یہ بات نہیں ہے کہ ہم پر فوج بھیجنے کا کوئی دباؤ ہے۔ جب سارے مسلم ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، وہ اعلان کر رہے ہیں تو دباؤ کیوں ہوگا۔ دباؤ تو تب ہوگا جب کوئی مسلم ملک اس پر تیار نہ ہو جب کہ پاکستان ہی واحد آپشن ہو، اس لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کی فوج پر اسرائیل کو تو سخت اعتراض ہے اور وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج اس بین الا قوامی فورس کا حصہ بنے، باقی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ دوسر اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کا مفاد کیا ہے؟ ہمیں ان دونوں مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے پاکستان کے مفادکی بات کریں، پاکستان کا مفاد اسلامی ممالک کے ساتھ چلنے میں ہے یا ان سے الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں ہے۔ ہمیں فلسطین کے معاملے میں اسلامی ممالک کے ساتھ چلنا چاہیے، مشترکہ فیصلے کرنے چاہیے۔ اس سے پہلے بھی آٹھ اسلامی ممالک فلسطین پر اکٹھے پریس ریلز جاری کرتے ہیں۔ مشترکہ موقف میں طاقت ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں غزہ میں فوج بھیجنے اور مسئلہ فلسطین میں پاکستان کو اسلامی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے ۔ کوئی تنہا پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔ جب سب بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے تھے تو پاکستان کو بلا جھجھک بورڈ آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ ہم سینٹر اسٹیج پر موجود ہیں۔ انکار کرنے کی صورت میں ہم الگ بیٹھے ہوتے اور ہماری آواز کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ جب پاکستان کے دوست اسلامی ممالک کو غزہ میں فوج بھیجنے پر کوئی ا عتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ وہاں موجود ہوںگے تو مل کر ہی فیصلے ہوںگے۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں۔ اور باقی اسلامی ممالک غزہ اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی اسلامی ممالک کی افواج غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف کام کریں گی، وہ وہاں اسرائیلی عزئم کی تکمیل کریں گی۔ ایسا نہیں ہے، سب مل کر ایک میز پر موجود ہوںگے تو ایک دوسرے کی طاقت ہوںگے۔ مل کر دباؤ بھی ختم کریں گے۔ مل کر فلسطین کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ اکیلا پاکستان فلسطین کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔ آج جب پاکستان کوئی فیصلہ نہیں کر رہا توہم دنیا میں پاکستان کا مقام بلند نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہم فیصلہ سازی میں کمزور ہیں۔ آج دوست اسلامی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل رہا۔ میں سمجھتا ہوں فلسطینی بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم کوئی درست فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہ توا سلامی دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔ پاکستان کی فوج کئی شعبوں میں غزہ میں مدد کر سکتی ہے۔ میڈیکل کور کے ڈاکٹر جا سکتے ہیں۔ انجیئرنگ کو ر وہاں کی تعمیر میں مدد کر سکتی ہے۔ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاک فوج مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جانا تو چاہیے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نہ جانے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ غزہ میں تعینات کثیرالملکی فوج نے امن قائم کر دیا۔ غزہ کی تعمیر نو گئی۔ پھر سوچیں پاکستان کہاں کھڑ اہوگا۔ ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے بہترین موقع کھو دیا۔ ہمیں اس فورس کا بھی حصہ ہونا چاہیے تھا۔جب فلسطینی سب مسلم ممالک کا شکریہ اد اکر رہے ہوںگے تو پاکستان کا نام نہیں ہوگا۔ یہی کہا جا ئے گا کہ پاکستان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ہم خدشات کا شکار رہے۔ اگر فرض کر لیں کہ کچھ غلط ہو جاتا۔ تو ہم اکیلے تھوڑی ہوںگے۔ ایسے میں سب اسلامی ملک جو بھی فیصلہ کریں گے ، ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے۔ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی سب اسلامی ممالک تو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کر لیں گے، صرف ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ سب مسلمان ممالک فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں جتنے ہم ہیں۔ باقی اسلامی ممالک کو شک سے دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو باقی ممالک نے فلسطین کے لیے ماضی میں پاکستان سے زیادہ عملی جدو جہد کی ہے۔ ہم ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے کسی بھی مشکل میں مل کر ہی فیصلہ ہوگا۔ سولو فلائٹ میں کوئی فائدہ نہیں ، مل کر چلنے میں ہی فائدہ ہے۔ پاکستان محمود عباس کی فلسطین حکومت کو مانتا ہے۔ یہاں محمود عباس کی حکومت کا سفارتخانہ ہے۔ ہم نے کبھی حماس کا سفارتخانہ نہیں کھولا۔ ہمیں اپنی پالیسی جا ری رکھنی ہے۔ ہم واضح کر رہے ہیں کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے اب وقت فیصلے کا ہے، اب مزید تاخیر درست نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل