Saturday, February 21, 2026
 

ایک گھنی چھاؤں، جو نہ رہی

 



جانے والے چلے جاتے ہیں اور پیچھے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی تھے مصطفی لاکھانی! ہمارے ہائی کورٹ بارکے سابق صدر مصطفیٰ لاکھانی، مورخہ 14 مئی کو انتقال ہوا۔ ان کی عمر لگ بھگ اٹھاسی برس تھی۔ ستر برس کی عمر تک یہ ہائی کورٹ کی سیڑھیوں سے اترتے اور چڑھتے رہے۔ انھوں نے کئی ادوار دیکھے، وہ تمام زمانے دیکھے جب کراچی پاکستان کا کیپٹل سٹی تھا، عدالتیں دیکھیں، جج دیکھے، وکلا اور آمریتیں دیکھیں اور جمہوریتیں بھی دیکھیں۔ فاطمہ جناح کو دیکھا، جب ایم آر ڈی کی تحریک کا آغاز ہوا تو وہ کراچی ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری تھے اور عبد الحفیظ لاکھو صدر تھے، جب لا کھو صاحب جیل چلے گئے تو بارکی تمام ذمے داریاں ان کے کندھوں پر آن پڑیں۔ انھوں نے تحریک میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا، جیلوں میں قید وکلاء کی دیکھ بھال کرنا، ان سے ملنا اور پھر ان کی ضمانت کی ذمے داریاں یہ تمام کام مصطفیٰ لاکھانی نے بہ طور جنرل سیکریٹری سر انجام دیے۔ 2007 میں، مشرف دور میں وکلاء تحریک کا ایک معتبر نام وہی تھے ۔ اس شخص کے گرد بار میں ، ہر وقت وکیلوں کا گھیرا رہتا تھا، ان کے مسائل سننا ، ان کے حل ڈھونڈنا، یہ روایت ان کو ان کے استاد شرف فریدی سے ملی جو مسلسل آٹھ برس کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر رہے، ایک انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔ وہ وکیلوں کے جیسے مسیحا مانے جاتے تھے، اگر ان کو یہ خبر ہو جاتی کہ کوئی وکیل مالی مشکلات سے دو چار ہے تو وہ خود فائلوں کے اندر رقم ڈال کران کے گھر تک پہنچا آتے اور ہر وقت اس بات کا تجسس کہ کوئی پریشان حال تو نہیں۔ مصطفیٰ لاکھانی اور شرف فریدی دونوں کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ ہم جیسے ان کے بچے تھے اور ہائی کورٹ بار ان کا خاندان۔ مصطفیٰ لاکھانی صاحب ایک سادہ طبعیت اور فقیر منش انسان تھے۔ ان سے مجھے باپ کی سی شفقت ملتی تھی۔ جیسے میں ان کا سپاہی اور وہ میرے سالار۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انھوں نے جیسا مجھے کرنے کے لیے کچھ کہا ہو اور وہ کام میں نے نہ کیا ہو۔ عاصمہ جہانگیر نے مجھے مصطفیٰ لاکھانی سے ملوایا، وہ انڈیپینڈنٹ لائرزگروپ (کراچی ) کے صدر تھے اور میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو وکالت میں آنے سے پہلے ہی جانتا تھا، انسانی حقوق کے حوالے سے۔ پھر مصطفی لاکھانی ہم سے ایسے جدا ہوئے کہ پتا ہی نہیں چلا، یہی سیڑھیاں اترتے چڑھتے، نہ شوگرکی بیماری اور نہ ہی بلڈ پریشرکی، دبلے پتلے سے۔ پچھلی جمعرات کو بار میں آئے، خود اپنی گاڑی چلا کر، جمعہ کو بخار ہوا اور ہفتے کو صبح دس بجے انتقال کرگئے۔ ان کوکوئی بیماری نہ تھی اور جب جانے کا وقت آیا تو ایک ہلکے سے بخار سے چل بسے۔ ہلکا سا بخار سمجھ کر نہ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے اور نہ ہی دوائی کھائی۔ اب صرف رہ گئیں ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی محبتیں، ان کا ہنسنا اور ہنسانا۔ میری باتوں سے وہ بڑے محظوظ ہوتے۔ کئی بار مصروفیت کی باعث بار نہیں جاتا تھا لیکن پھر خیال آتا کہ بار جاکر ان سے مل آؤں، چند منٹوں کے لیے جاتا تھا اور ان سے یہ کہتا تھا کہ میں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ان کے ہونے سے ایک تسلی رہتی تھی، چاہے کتنی ہی عمر ہو لیکن کبھی گماں نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس طرح سے چلے جائیں گے۔ وہ ہر دلعزیز تھے۔ ان کے ادب میں سب لوگ کھڑے ہوجاتے تھے۔ ان کے احترام کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک با کردار انسان تھے۔ ان کو پرکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ پتا چلا کہ وہ تو ایک فرشتہ صفت انسان تھے۔ کوئی بری عادت ان میں نظر نہیں آتی۔ نہ ہی کبھی ان کے چہرے پر غصہ دیکھا۔ ہمارے وکلاء گروپ کی بیٹھک اکثر میرے چیمبر میں ہوتی ہے۔ وہ بہ طور چیئرمین میٹنگ کی صدارت کرتے تھے۔ ان جیسے لوگ اب شاید ہی ملیں۔ تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی سب پوچھیں تھے احوال جوکوئی درد کا مارا گزرے تھا  وہ گجراتی میمن تھے۔ اپنے والد کے ساتھ 1948 میں ہجرت کی۔ ولبھ بھائی پٹیل اور ان کا گھر ایک ہی شہر میں نزدیک تھا۔ جب بٹوارہ ہوا تو ہندوستان میں ان کا رہنا ناممکن ہوا اور انھوں نے پاکستان ہجرت کی۔ ان کے والد جو خود بھی ایک وکیل تھے، ان سے ولبھ بھائی پٹیل کی نہیں بنتی تھی۔ وہ یہ بتاتے تھے کہ وہ ہندوستان سے اتنی عجلت میں نکلے کہ جہاز میں چڑھتے وقت ان کا تھیلا ان کے ہاتھ سے پھسل گیا اور ان کے پاس اتنا بھی وقت نہ تھا کہ وہ اس کو اٹھا سکتے۔ انھوں نے گجراتی میمن کمیونٹی اور اپنے خاندان کے حوالے سے ایک کتاب لکھی۔ پچھلے ہی برس ان کی زوجہ کا انتقال ہوا، ایک لمبی علالت کے بعد، وہ آفس سے جلدی گھر چلے جاتے، بیوی کی علالت کے باعث ہماری رات کی کسی دعوت میں نہیں آتے تھے اور ان کے انتقال کے بعد فوراً ہی اپنا گھر بھی تبدیل کر لیا۔ پھر وہ اپنے والد ین کے گھر منتقل ہوگئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ ایک گہرا تعلق رہنے کے بعد مصطفیٰ صاحب کا انتقال صرف میرا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کا بچھڑنا ہے جس کا ہرکام مفادِ عامہ کے لیے تھا، قانون کی حکمرانی اور وکلا برادری کی بہبود کے لیے تھا۔ ستر سال سے ان کے نقوش اس عدالت کی سیڑھیوں، عدالت کے برآمدوں، بار روم میں موجود ہیں۔ زمانے کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے انھوں نے۔ وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ’’ تم اپنے کالمز میںکراچی پرکم لکھتے ہو‘‘ اور میں ان کو کہتا تھا کہ ’’ میں ضرور لکھوں گا اور بہت لکھوں گا۔‘‘ مصطفی صاحب ہر تعصب سے بالا تر ہوکر بڑے فخر سے کہتے تھے کہ’’میں سندھی ہوں‘‘ نظریات کے حوالے سے ہم دونوں مختلف تھے ، ان کا جھکاؤ دائیں بازوکی سیاست کی طرف تھا جب کہ میں بائیں بازو کی سیاست کا حامی ہوں مگر انسانیت کے سبجیکٹ کی دیوار نہیں ہوتی وہ تو ہر خیال اور ہر سوچ میں پائی جاتی ہے۔ آج ہائی کورٹ بار ادھوری رہ گئی ہو جیسے۔ ایک ایسا خلاء جو بھر نہیں پائے گا۔ ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ آج ان کی یاد میں ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وکلاء کی جمہوریت کے لیے تحریک، انسانی حقوق کے لیے جدوجہد، عدلیہ کی آزادی کے بغیرکسی نسلی امتیازکے ایک ہوکر، آمریتی سوچ اور نظریے کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونا ہے۔ جاتے جاتے وہ اپنی بے لوث محبتیں چھوڑگئے۔ ان کی یادیں خوشبو بن کرکئی زمانوں تک تازہ رہیں گی۔ آج سے پچاس سال پہلے میرے والد بھی اسی بار میں آتے تھے۔ وہ بھی کیا زمانے تھے 1950کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں وکالت کرتے تھے۔ میرے چچا جو بمبئی بورڈ کے گولڈ میڈلسٹ تھے، وہ بھی کریمنل کیسز کے بڑے وکیل تھے۔ میرے چچا اس دور میں ایک نوجوان وکیل تھے اور بھٹو صاحب ان کے آرگیومنٹ سننے عدالت میں آتے تھے۔ کراچی ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت جوکہ سندھ کا ورثہ ہے،کراچی کی پہچان ہے،1923 میں بننا شروع ہوئی۔ جب سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کے عرصے میں یعنی 1929 میں ہائی کورٹ کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی، مگر آج بھی شاندار ہے۔ کتنے وکیل یہاں آئے اور اس دنیا سے رخصت ہوئے، مصطفی لاکھانی کی طرح۔ سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں (غالب)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل