Saturday, February 21, 2026
 

نفرت ایک گمان

 



نفرت ایک چھوٹا سا لفظ ہے جسے اس دنیا کے زیادہ تر انسان اپنے وجود میں پالنے کے دعویدار ہیں۔ ہر ایک انسان کو لگتا ہے کہ وہ اپنے اطراف میں موجود بیشمار افراد میں سے کئیوں سے شدید نفرت کرتا ہے جنھوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اُس کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے۔ فقط چار حروف پر مشتمل لفظِ نفرت اپنے اندر خطرناک اثرات سموئے ہوئے ہے بشرطیکہ وہ اصل میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ انسان کی ذات میں سرایت کر چکا ہو۔ دراصل جس احساس کو اکثر انسان نفرت سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اُن کا گمان ہوتا ہے۔ نفرت کوئی معمولی جذبہ انسانی نہیں ہے جو بات بے بات ہر دوسرے شخص کو کسی نہ کسی فرد سے ہو جائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ نفرت کرنا عام انسان کے بس کا کام نہیں ہے، دوسرا اس کو کرنے کے جواز کی شدت جہنم کی آگ کی تپش سے برائے نام ہی کم ہونا لازم و ملزوم ہے۔ ہستیِ انسانی اپنے اندرون دہکنے والے جس لاوے کو نفرت کا نام دے رہی ہوتی ہے وہ اصل میں شدید غصے کا احساس ہوتا ہے جو اُس کو ایذا پہنچانے والے لوگوں پر آنا جائز امر ہے۔ عموماً افراد کا غصہ آتش فشاں پہاڑ کی مانند ہوتا ہے، اچانک پھٹا، اپنے اندر کا لاوا باہر نکالا پھر آخر میں شانت، اس کے برعکس نفرت کرنے والا فرد اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دے بھی تو وہ ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ نفرت کرنا بڑا دل گردے کا کام ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے انسان سے اُس کی ذات کی نفی کا مطالبہ کرتی ہے، نفرت کا الاؤ انسان میں سے انسانیت کو مکمل طور پر اُکھاڑ پھینکتا ہے پھر اُس کے اندر ہمدردی، رحم، معاف کرنے کا حوصلہ اور دل میں وسعت پیدا کرنے کا جذبہ کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔ ایک بار جو انسان نفرت کے جہاں میں داخل ہو جاتا ہے پھر وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ اُس کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے اور اُس کا وجود اس کی دلدلی سطح میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ انسان کو چکنی مٹی سے خلق کیا گیا ہے، سادہ مٹی اور چکنی مٹی کے درمیان نمی کا فرق ہے اور نمی میں آب یعنی پانی کا عنصر پایا جاتا ہے اور پانی کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔  اس پیرائے میں دیکھا جائے تو انسانی ذات میں نفرت کی جگہ بنتی نہیں ہے، جب  کہ شیطان کو چونکہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ انسان کو خود سے کمتر و حقیر سمجھ کر اُس سے روزِ اوّل سے نفرت پالے ہوئے ہے تو آگ کا یہ کھیل شیطان کی شیطانیت کے ہی عین مطابق ہے۔ 13ویں صدی کے عظیم فارسی صوفی، شاعر، عالم اور فلسفی مولانا جلال الدین بلخی (جنھیں عموماً دنیا رُومی کے نام سے جانتی ہے) کے نزدیک انسان کا قلب وہ مقدس مقام ہے جہاں پروردگارِ عالم کا نور جلوہ گر ہوتا ہے۔ مولانا رُومی کہتے تھے، ’’ مقدس اور پاک مقام (خدا) کو اپنے اندر تلاش کرو، کیونکہ وہ تمھارے دل میں ہے‘‘ اُن کے نزدیک دل عقل کی حدود سے آزاد ہے۔ مولانا رُومی کی تعلیمات چونکہ عشقِ حقیقی، محبت اور انسانیت پر مشتمل ہے اور جیسے کہ حقیقی معرفت ’’ عقل‘‘ کی بجائے ’’ عشق‘‘ سے حاصل ہوتی ہے اور عشق کا تعلق انسانی قلب سے ہے لہٰذا اُن کے مطابق، دل کو برائیوں سے پاک کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خالقِ انسانی کی تجلیات کا آئینہ بن سکے کیونکہ دل سیاہ ہو تو ظاہری علم یا اعمال بیکار ہیں۔ فرمانِ رُومی ہے، ’’جس دل میں مخلوقِ خدا کے لیے محبت ہے، وہی دل عظمت کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے اور انسانیت سے محبت، ذاتِ خداوند تک پہنچنے کا خوبصورت راستہ ہے۔‘‘ بقولِ رُومی انسان کے دل میں خدا بستا ہے، اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں خدا بسے وہاں منفی کیفیت ’’ نفرت‘‘ جسے رُومی انسان کے لیے زہر سمجھتے تھے وہ کیسے موجود رہ سکتی ہے؟ خالق نے انسان کو بہت چاہ سے تخلیق کیا ہے، انسان سے سب سے زیادہ محبت وہی ذاتِ عظیم کرتی ہے، جب خلق کی بنیاد محبت ہے پھر اُس کے وجود میں نفرت کے موجود رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اگر انسان کو واقعی کسی دوسرے انسان سے نفرت ہو تو وہ اُس کی تکلیف پر تڑپ اُٹھے گا نہ اُس پر کڑا وقت آنے پر اپنی ساری منفی کیفیات کو بالائے طاق رکھ کر مدد کے لیے دوڑ پڑے گا۔ انسان ایک انتہائی جذباتی مخلوق ہے جو غصہ انتہا کے درجے پر کرتی ہے کہ خود ہی اُس کیفیت کو نفرت کا چوغہ پہنا بیٹھتی ہے لیکن جب محبت، رحم اور ترس کرنے پر آئے تو ماضی کی ہر تلخ بات اور یاد کو ایسے بھولا دیتی ہے جیسے کہ وہ کبھی رونما ہوئی ہی نہ ہو۔ انسان سچے، پرُ خلوص اور محبت کی چاشنی سے گوندھے رشتوں کے درمیان اپنی زندگی کا لطف اُٹھانا بے حد پسند کرتا ہے، اُس کے اطراف میں موجود افراد میں سے جب کوئی اُس کی زندگی کے پُر کیف رنگوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو وہ شدید غصے کے احساس میں ایسا کرنے والے کو اپنی زندگی سے بیدخل کر دیتا ہے۔ مگر نفرت نہیں کر پاتا کیونکہ نفرت کرنا انسان کی گھٹی میں نہیں ہے بس کیونکہ انسان فطرتاً نادان ہے اس لیے وہ اپنے اندر جنم لینے والے ہر منفی احساس کی انتہا کو نفرت کا نام دے کر شیطان بننے کی بھدی اداکاری کر رہا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل