Loading
سپریم کورٹ نے نجی فریقین کے درمیان جائیداد کے تنازع پر خیبر پختونخوا حکومت اور محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے تحریری فیصلے میں کہا کہ جب نجی فریقین خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب کیوں اپیل میں آئے؟ محتسب جج ہے فریق نہیں، اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کی وکالت نہیں کر سکتا،
سپریم کورٹ نے کہا کہ محتسب ایک نیم عدالتی ادارہ ہے، وہ فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، محتسب کی حیثیت ایک منصف کی ہے، اسے غیر جانبدار رہنا چاہئے، خیبر پختونخوا حکومت اس جائیداد کی وارث تھی نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت اور محتسب کو اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں، اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا حق متاثر نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم کا تنازع تھا جس پر خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت اس کیس میں فیصلہ دیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل