Loading
پشاور ہائیکورٹ نے سوات کورٹ روم میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے وکیل کو 6ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے اس حوالے مختصر فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ سوات کے وکیل اسد اللہ کے خلاف شکایات رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو وصول ہوئی، شکایت خاتون سول جج فوزیہ نسیم نے کی۔
پشاور ہائیکورٹ نے شکایت توہین عدالت درخواست میں تبدیل کر دی، عدالت نے توہین عدالت کارروائی شروع کرتے ہوئے وکیل کو نوٹس جاری کیا اور کارروائی کے دوران وکیل پر الزامات ثابت ہوئے۔
ہائیکورٹ نے توہین عدالت آرڈنینس 2004 کے تحت وکیل کو سزاء اور جرمانہ کر دیا۔ عدالت نے وکیل کو چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل