Loading
پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کو مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے حالیہ واقعات جن میں بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے قافلے پر حملہ اور کانسٹیبلری کے جوانوں کو جلانے، شکردرہ (کوہاٹ) میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔
ذرائع نے کہا کہ رمضان المبارک کے مُقدّس مہینے میں افغانستان سے ہونے والے یہ خودکش حملے اس امر کے عکاس ہیں کہ ان دہشت گردوں کا اسلام اور پختون روایات سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے نزدیک اپنے مذموم اور خودساختہ نظریات کی تکمیل کیلئے معصوم انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
ذرائع نے کہا کہ پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان طالبان رجیم کی اس اعلانیہ جنگ کو مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے جواب دیگا جبکہ سیکورٹی فورسز مکمل عوامی تائید سے اپنی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے والے ان تمام عناصر کی سرکوبی کیلئے یکسو اور متحد ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشتگردی کا مقابلہ کریں۔
ذرائع نے کہا کہ قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کاتحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔ انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چائیے۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ملک کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں کے دفاع میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، ان قربانیوں کے پیچھے پاکستانی قوم کی ان کیلئے لازوال محبت اور یکجہتی جیسے عناصر کار فرما ہیں بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے ان مٹھی بھر دہشگردوں کو پاکستانی قوم اور سیکورٹی ادارے باہمی اتحاد، قومی حمیت اور روایتی عزم سے شکست فاش دی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل