Loading
ملک کے اخبارات ورسائل کے مدیران میں ایک درخشاں ستارے کا نام ہے سلیم منصور خالد۔ نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا کی مجسّم تصویر۔ کئی کتابوں کے مصنّف ہیں مگر بنگلہ دیش امور کے اسپیشلسٹ ہیں بلکہ پی ایچ ڈی ۔ بنگلہ دیش کے اصل حقائق سے وہ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعے ملک کے سنجیدہ طبقوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ وہاں کے حالیہ انتخابات کے بارے میں انھوں نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں جو کچھ تحریر کیا تھا وہ کافی حد تک درست ثابت ہوا ہے۔
ماضی میں حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء کی آپس میں سخت چپقلش رہی ہے، بی این پی کے خلاف عوامی لیگ کی حکومت نے بہت سختیاں بھی کی جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاء ایک طویل عرصے تک قید میں اور ان کا بیٹا طارق رحمان (موجودہ وزیراعظم) جلا وطن رہا۔ مگر وہاں نوجوانوں کے لائے گئے انقلاب کے بعد عوامی لیگ پابندی کے باعث الیکشن سے باہر ہوگئی۔ لہٰذا اس نے بی این پی سے پینگیں بڑھانا شروع کیں اور حالیہ انتخابات میں عوامی لیگ کے حامیوں کا اور ہندو کمیونٹی کا 98% ووٹ بی این پی کو پڑا ہے۔
جس نے ان کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، عالمی سطح پر بھی وہ ایک اجنبی شخصیّت ہیں، اس لیے بنگلہ دیش کے عالمی خیر خواہوں کا خیال ہے کہ اگر ڈاکٹر محمد یونس ان کے ساتھ صدر ہوں تو پھر یہ جوڑی بنگلہ دیش میں استحکام اور خوش حالی لاسکتی ہے۔ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو عملاً بھارت کی ایک ریاست میں تبدیل کردیا تھا جس کے تمام اہم فیصلے دہلی میں ہوتے تھے۔ اسی پالیسی کے تحت حسینہ نے جماعتِ اسلامی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور بچّاس سال پہلے، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی افواج کی حمایت کرنے پر جماعت کے عمر رسیدہ لیڈروں کو بھی پھانسیوں پر لٹکا دیا، جماعت پر پابندی لگادی، اس کے دفاتر اور جائیدادیں ضبط کرلیں اور ان کا نام تک لینے والوں کے لیے جینا حرام کردیا۔ پندرہ سال ظلم اور جبر سہنے کے بعد جماعت پر سے پابندی ہٹائی گئی تو انھوں نے بھی انتخابات میں حصّہ لیا اور ستّر نشستیں جیت لیں۔ بھارت کے تجزیہ کاروں کے مطابق جماعتِ اسلامی اور ان کے اتحادیوں نے تین کروڑ سے زائد اور کل ووٹوں میں سے بتیس فیصد ووٹ حاصل کیے جو ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
مگر آج میں انتخابات کے بارے میں نہیں سلیم منصور صاحب کی بھیجی ہوئی کتاب ’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘ کے بارے میں بتانے لگا ہوں۔ یہ بنگلہ دیش کے ایک نوجوان بیرسٹر کی رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان ہے، جسے حسینہ کے دورِ حکومت میں گھر سے اٹھایا گیا اور پھر ’’غائب‘‘ کردیا گیا۔ اُس پڑھے لکھے شخص کو چند ہفتوں کے لیے نہیں آٹھ سال تک عقوبت خانوں میں رکھا گیا۔ ان آٹھ سالوں کی ہر گھڑی اس کی والدہ، بیوی اور معصوم بچیوں کے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ اس دوران مغوی نہ زندوں میں تھا اور نہ مردوں میں، اور ورثاء بھی سولی پر لٹکے رہے، انھیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہے یا اسے مار ڈالا گیا ہے۔
نوجوان بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا، ان کے والد میر قاسم علی کا تعلق بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے تھا، وہ خود عملی سیاست میں نہیں تھے مگر جماعت کو مالی امداد دیاکرتے تھے۔ شیخ حسینہ نے 2008میں وزیراعظم، بننے کے بعد جماعت کے ہر سپورٹر اور خیرخواہ کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا اور پھر بھارت کی ہدایت پر پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو خوفزدہ کرنے اور جماعت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے اس کے حامیوں کو بھی پھانسیاں دینی شروع کردیں۔ میر قاسم علی کو جب ایک نام نہاد ٹریبونل کے ذریعے پھانسی کی سزا سنائی گئی اُس وقت ان کا بیٹا ارمان برطانیہ سے بیرسٹری کی ڈگری لینے کے بعد مصر میں عربی زبان سیکھ رہا تھا۔ والد صاحب کو سزا ہونے کے بعد وہ فوری طور پر واپس لوٹا اور والد کے دفاع کے لیے قائم کردہ قانونی ٹیم کا حصہ بن گیا۔ قانونی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر عبدلرزاق نے نوجوان بیرسٹر کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے رابطوں کی ذمے داری سونپی۔ اب اس کے بعد کی کہانی اس کی اپنی زبانی سنئے۔
’’ایک ایک کرکے جماعت کے راہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا اور مقدمات شروع ہوگئے لیکن سب سے بڑا خوفناک پہلو یہ تھا کہ عدالتی عمل ہمارے بدترین خدشات سے بھی بڑھ کر وحشی درندے کی صورت میں بے نقاب ہوگیا۔ حکومت کی طرف سے قانون توڑنا، گواہوں کو ہراساں کرنا اور مقدمات کے دوران قانون میں ترمیم کرنا معمول بن گیا۔ مگر کچھ بھی میڈیا پر نہیں آنے دیا جاتا تھا۔
’’۔۔۔میرے والد صاحب کو سزائے موت سنائی گئی تو ہم نے اپیل کردی۔ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہماری طرف سے وکالت کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو دوسرے حاضر سروس ججوں نے انھیں ڈرا دھمکا کر مقدمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پھر ایک بار چیف جسٹس نے سزائے موت کے خلاف ریمارکس دیے تو اسے بھی دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ ان حالات میں کچھ اہم لوگوں نے مجھے بھی وارننگ دی کہ ’’فوراً ملک سے باہر چلے جاؤ‘‘، میں نے جیل میں والد صاحب سے مل کر پوچھا تو انھوں نے کہا، بیٹا! اﷲ پر بھروسہ رکھو، ملک میں رہو تاکہ مجھے الوداعی غسل دے سکو اور میری تدفین کرسکو‘‘ یہ سن کر مجھے حوصلہ ملا اور میرے اندر شدید عزم بیدار ہوگیا۔ اس کے چند روز بعد شیخ حسینہ کی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے بنائی گئی فورس Repid Action Battalion کے جوان رات کو میرے گھر آدھمکے اور زبردستی اٹھاکر لے گئے، میری بیوی اور معصوم بچیاں شور مچاتی رہیں مگر انھوں نے مجھے گاڑی میں ڈالا، ہتھکڑی لگائی اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ اور کافی دیر کے بعد گاڑی رکی، مجھے انھوں نے دھکے دے کر اتارا۔ گیٹ کھلنے کی آواز آئی، پھر وہ مجھے سیڑھیوں سے نیچے لے گئے اور ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں دھکیل دیا۔
وہاں میرے کپڑے اتروا کر انتہائی گندی سے لنگی اور بنیان پہنادی‘‘۔ بس یہ وہ عقوبت خانہ تھا جہاں ایک اعلیٰ خاندان کے پڑھے لکھے بیرسٹر کو ڈمپ کردیا گیا۔ وہاں تاریکی، بدبو، مچھر اور جیلروں کی گندی گالیاں تھیں جو ایک نارمل انسان کو پاگل بنادینے اور اس کے اعصاب توڑ دینے کے لیے کافی تھیں۔
بیت الخلاء کے بارے میں لکھتے ہیں ’’وہاں ہر جگہ غلاظت اور فضلہ پڑا تھا، میں نے ہتھکڑی سے دروازہ کھٹکھٹایا توگارڈ آیا میں نے پوچھا اس بیت الخلاء کو کیسے استعمال کرسکتا ہوں، میں تو یہاں کھڑا بھی نہیں ہوسکتا۔ یہاں صابن نہیں، وضو کے لیے جگہ نہیں۔ اس نے جواب دیا ہر کوئی اسی پانی کو بیت الخلاء کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ سمجھے۔۔ ’’یہ سن کر مجھے یوں لگا جیسے میں ایک جہنم میں ڈال دیا گیا ہوں، آخر کار مجھے وہی پانی استعمال کرنا پڑا۔ اس غلیظ سیل میں ایک پھٹا ہوا بدبو دار تولیہ ایک گندے پانی کی بوتل اور ایک زرد پیشاب کی تہہ جمی بوتل میرے ساتھی تھے۔ مجھے شدید کراہت اور ذلّت کا احساس ہوا۔ میں کوئی سوال کرتا یا وقت پوچھتا تو گندی گالیوں سے جواب دیا جاتا، شدید گرمی کے باعث میری جلد پر پہلے چھالے بنے اور پھر پھوڑے بن گئے جن سے مسلسل پِیپ رسنے لگی‘‘۔
نوجوان بیرسٹر کو جس تنگ وتاریک غلیظ اور بدبو دار کوٹھڑی میں بند کیا گیا وہاں بھی اس کی آنکھوں پر مستقل پٹی اور ہاتھوں میں ہر وقت ہتھکڑی ہوتی تھی، وہاں وقت پوچھنا جرم تھا، دن اور رات کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک ناقابلِ بیان بے بسی کا احساس تھا جو میرے سینے کو جکڑ رہا تھا۔ اس بے بسی اور ناامیدی میں مجھے صرف ایک ہستی کے نام اور سہارے نے زندہ رکھا اور وہ تھی ربِّ کائنات کی ذات۔ اُس وقت مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی ’’صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو‘‘ لہٰذا میں نے سارا وقت عبادت اور نمازوں میں صرف کرنا شروع کردیا۔ اس طرح میں جتنا زیادہ اللہ سے ہمکلام ہوتا اتنا ہی امید اور حوصلہ ملتا اور مشکل کم ہوتی‘‘۔
حسینہ حکومت کی درندگی کئی سالوں تک جاری رہی۔ بیرسٹر ارمان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہوتا رہا اور وہ اﷲ کے سہارے سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ اسی طرح دن، مہینے اور پھر سال گزرتے رہے۔ اس دوران وہ کئی بار بیمار بھی ہوئے، کئی بار بے ہوش بھی ہوئے۔ اس صورت میں ڈاکٹر بھی آجاتا اور کچھ دوائیاں بھی دے جاتا کہ مغوی زندہ رہے۔ لیکن وہ آٹھ سال تک موت سے بدتر زندگی کے دن گذارتے رہے۔ اگر وہ زندہ رہے تو صرف قرآن، عبادت اور اﷲ کی رحمت کے سہارے۔ بالآخر جب طلبا کے عظیم انقلاب کے نتیجے میں قاتل حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو گارڈ انھیںسیل سے نکال کر کسی سڑک پھینک گئے۔
جہاں وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے اسپتال پہنچے اور وہیں ان کا رابطہ اپنے پیاروں سے کرایا گیا۔ یہ ظلم اور جبر کے ساتھ ساتھ صبر، استقامت، حوصلے اور امید کی حیرت انگیز داستان ہے۔ جو ناول کی طرح پڑھی جاسکتی ہے۔ بیرسٹر ارمان حالیہ الیکشن میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ چار دوسرے شہید کیے جانے والے راہنماؤں کے بیٹے بھی پارلیمنٹ کے ممبر بنے ہیں۔ کیا ہم زمانے کے الٹ پھیر سے عبرت حاصل نہیں کریںگے؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل