Tuesday, February 24, 2026
 

اللہ میاں کی گائے

 



یہ کہانی ہم پہلے بھی ایک اور سلسلے میں کہیں بیان کرچکے ہیں لیکن اس خوبصورت، بے مثال اور ہمہ جہت کہانی کے اتنے پہلو ہیں کہ ساری انسانی تاریخ ، انسانی معاشروں اور نظاموں کا احاطہ کرلیتی ہیں۔ کسی نہایت ہی ذہین و فطین شخص نے اس کہانی کے استعارہ و تمثیل میں پوری انسانی تاریخ، معاشرت اور حکمرانوں کے بحرنا پیدا کنار کو ’’کوزے‘‘میں بند کیا ہے جو قدیم ہندی نوشتوں میں درج ہوکر ہم تک پہنچی ہے۔ اس کہانی کے جو دو کردار ہیں، وہ قدیم ہندی نوشتوں میں جابجا ذکر ہوئے ہیں اور جابجا ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں، کشتری راجہ و شوامتر اور برہمن رشی وسیشٹھ۔ تاریخ کے ایک بہت بڑے غلط العام سوکالڈ ’’آریا ‘‘ جب ہند میں وارد ہوئے اور خانہ بدوشی ترک کرکے یہاں رچ بس گئے تو انھوں نے تین ذاتوں کا یا گوتوں پر مبنی نظام بنایا۔ کشتری (حکمران )ویش( عام کماؤ طبقہ)اور شودر(ناپاک) قدیم ہندی اقوام۔ جنھیں خانہ بدوش آریا کہا گیا ہے ، وہ اصل میں آریا نہیں تھے بلکہ آریاؤں کے دشمن ساک (گھوڑے والے) تھے۔  آریا لوگ زراعت کار تھے جب کہ ساک خاک بدوش یا گھوڑوں والے تھے، جنھیں یونانیوں نے ستھیئن کا نام دیا ہے۔ایرانیوں نے تورانی کہا ہے اور ہند میں کشتری  (کش توری یعنی تلوار والے کہلائے) جب ہند میں ان کی خوشحالی اور فارغ البالی کی خبریں ایران و افغانستان پہنچیں تو وہاں مینگی اور مہر(مذہبی پڑھے لکھے لوگ) ان کے پیچھے پیچھے چلے آئے، ان کا قبیلوی نام’’پرسُو‘‘ (کلہاڑے والے) تھا۔ جن کے تعلق سے ایران کو پارس کا نام ملا ۔ چونکہ یہ مذہبی لوگ تھے تو پارسا اور پارسائی کا لفظ اب بھی زبانوں میں مذہبی اور عابد وزاہد لوگوں کے لیے مروج ہے۔یہ لوگ یہاں آکر برہمن کہلائے، پھر ان میں اور کشتریوں میں طویل عرصے تک جنگیں ہوتی رہیں اور پھر دونوں میں سمجھوتہ ہوگیا اور یہ کہانی اس کش مکش اور سمجھوتے کی روادار ہے، تمثیل استعارہ کی زبان میں۔ طاقتور راجہ وشوامتر شکار کو نکلاتھا کہ اس کا گزر ایک آشرم کے سامنے سے ہوا، یہاں کے پروہت ایک برہمن رشی وسیشٹھ نے راجہ کی زبردست مہمان نوازی کی۔ تو راجہ سوچنے لگا کہ اس بے بضاؑعت رشی نے اس ویرانے میں اتنی زبردست، بھرپور اور بڑی دعوت کا بندوبست کیسے کیا؟ پوچھنے پر اس پروہت نے بتایا کہ میری تپسیا سے خوش ہوکر دیوتاؤں نے مجھے ’’ایک گائے‘‘ دی ہے اور مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اس گائے سے کہہ دیتا ہوں اور وہ پلک جھپکنے میں حاضر کردیتی ہے۔راجہ نے کہا، یہ گائے تم مجھے دے دو۔ رشی نے انکار کیا۔ راجہ نے اصرار کیا۔ بات بگڑ گئی تو راجہ نے لشکر کو حکم دیا کہ گائے زبردستی لے لو۔رشی نے گائے سے کہا کہ راجہ کی فوج کے مقابل فوج کھڑی کردو ۔گائے نے راجہ کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور فوج کھڑی کردی۔ راجہ جتنی مزید فوج کمک کے طور پر منگواتا لیکن ’’ جادوئی یا کرشماتی گائے‘‘ اس سے بھی زیادہ مضبوط فوج سامنے کردیتی۔ مایوس ہوکر راجہ نے راج پاٹ تیاگ دیا کہ ایسے راج پاٹ سے فائدہ کیا جو ایک معمولی رشی سے ایک گائے بھی نہ چھین سکے اور جاکر تپسیا میں بیٹھ گیا۔ ایک ہزار سال کے بعد برھما نے درشن دے کر پوچھا، مانگ کیا مانگتا ہے۔ راجہ نے کہا ’’برہم رشی‘‘ کا رتبہ۔ برھما نے کہا، ابھی تم اس قابل نہیں ہوئے ہو، اس لیے میں تمہیں ’’راج رشی‘‘ کا رتبہ دیتا ہوں لیکن راجہ کو تو وہی رتبہ چاہیے تھا جو رشی وسشیٹھ کا تھا۔اس لیے پھر تپسیا میں مصروف ہوگیا لیکن ایک ہزار سال بعد بھی جب اس نے برھما سے وہی رتبہ مانگا تو برھما نے کہا، ابھی تم اس قابل نہیں ہوئے ہو اور اسے ’’دیورشی‘‘کا رتبہ دیا، تیسری مرتبہ کہیں جاکر اسے ’’برھم رشی‘‘ کا رتبہ مل گیا۔ ہزاروں سالکی تپسیا کی اس کہانی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ برھمنوں اور کشتریوں کی یہ کش مکش لمبے عرصے تک چلی تھی۔ برھم رشی کا رتبہ پاکر راجہ رشی وسشیٹھ کے آشرم سے گائے حاصل کرنے چل پڑا۔رشی نے اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا ،گلے لگایا اور کہا کہ اب تو ہم بھائی ہوگئے ہیں۔ گائے جتنی میری اتنی تیری۔کہانی ختم ہوئی لیکن سوال چھوڑ گئی۔ وہ گائے کیا تھی اور کیا ہے؟جو برھمن کو بھی طرح طرح کی نعمتیں فراہم کرتی ہے، راجہ کو بھی نعمتیں اور حکمرانی فراہم کرتی ہے اور دونوں کی ہر ضرورت پوری کرتی ہے یا دونوں اس سے اپنی ہر ضرورت پوری کراتے ہیں؟کیا وہ جادو سے سب کچھ فراہم کرتی تھی؟ایسا تو نہ کبھی ممکن تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔تو پھر یہ گائے کیا ہے؟کیا واقعی ایسی کوئی گائے تھی یا ہوسکتی ہے اور اگر ہم آپ کو یہ بتادیں کہ ایسی گائے واقعی تھی، ہے اور رہے گی، تو پھر آپ پوچھیں گے کہ یہ گائے کہاں ہے؟ کہاں ملتی ہے اور کس کے پاس ہے؟ تو ہم ابھی اسی وقت آپ کو یہ گائے دکھاسکتے ہیں، آپ کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ کوئی آئینہ ڈھونڈنا ہوگا اور جیسے ہی آپ اس آئینے میں دیکھیں گے وہ گائے سامنے کھڑی نظر آئے گی،آپ کی طرف دیکھتی ہوئی۔ جی ہاں یہی وہ گائے ہے یعنی ہم، تم اور وہ، جسے آج عوام عرف کالانعام کہتے ہیں۔ کیا ملٹی پرپز جانور ہے گائے، یہ صرف دودھ نہیں دیتی بلکہ اور بھی بہت کچھ فوائد کی حامل ۔بلکہ انسانی ضرورت کا سب کچھ دیتی ہے،بناتی ہے، اگاتی ہے ،کھلاتی ہے، پہناتی ہے، فراہم کرتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ مصر کے فراعین نے جو اہرام بنائے ہیں ،کس سے بنوائے ہیں؟بخت نصر نے جو اپنی ملکہ کے لیے معلق باغات بنوائے تھے، شاہ جہاں نے جو تاج محل بنوایا ہے، ملکہ زبیدہ نے جو نہر بنوائی تھی، ملکہ خیزران نے اپنے بیٹے کی شادی میں جو لعل وجواہر لٹائے تھے اور ایسا بہت۔یہ سب اسی ’’گائے‘‘ یعنی عوام کے کرشمے ہیں۔ یہ صرف ایک گائے نہیں بلکہ بوقت ضرورت سب کچھ بن سکتی ہے۔ یہ نہ صرف دودھ دیتی ہے بلکہ انڈے بھی دیتی ہے۔صرف اون نہیں دیتی ،کھالیں بھی دیتی ہے، ایسا اون اور ایسی کھال کہ آج اتاریے تو کل پھر موجود۔یہ جو آپ سنتے ہیں فلاں فلاں کے اتنے اتنے خزانے، اتنے اتنے وہ اور اتنے اتنے یہ تھے۔یہ بھرے ہوئے پیٹ،بھری ہوئی جیبیں،بھرے ہوئے محل اور گھر، بھرے ہوئے بینک،یہ کس کی برکت سے ہے؟کیونکہ یہ جن کے پاس ہیں وہ تو گل دان کے لیے گملے سے پھول بھی خود نہیں توڑتے۔ کہتے ہیں کہ جب ملاکنڈ میں نہر کے لیے سرنگ کھودنے کا پروگرام بنا تو ایک دیسی افسر نے انگریز افسر سے پوچھا، سر یہ سرنگ کھودے گا کون؟تو انگریز افسر نے جیب سے ایک پیسہ نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ’’یہ‘‘۔ وہ دیسی افسر، دیسی آدمی تھا ورنہ اگر وہ پوچھ لیتا کہ آپ کی جیب میں یہ سکہ کس نے ڈالا ہے تو وہ انگریز اسے اس گائے کا نام بتادیتا جسے دوہنے کے لیے وہ سات سمندر پار سے آیا تھا۔اس گائے کو اللہ میاں کی گائے بھی کہا جاتا ہے۔یہ صرف برھمن رشی اور راجہ وشوامتر کے پاس نہیں تھی بلکہ اب بھی رشی اور راجہ کے پاس ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل