Wednesday, February 25, 2026
 

وزیراعلیٰ کے پی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے گفتگو کی کوشش، بات سنے بغیر چیمبر میں چلے گئے

 



وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سُہیل آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کے روسٹرم پر جا کر بات کرنے کی کوشش تاہم چیف جسٹس بات سُنے بغیر چیمبر میں چلے گئے۔ وزیر اعلیٰ کے پی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے۔ سہیل آفریدی کو چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی تھیں۔ بعد ازاں، میڈیا سے گفتگفو میں وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہوتی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ میں رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔ سہیل آفریدی نے کہا ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست جمع کرائی لیکن درخواست ہی نہیں لگی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ خان صاحب تک ان کے معالجین کو اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کر رہے ہیں، عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا آرڈر کیا، ایک دن وکلا اور ایک دن فیملی سے ملاقات کا دن طے ہوا۔ وزیراعلی کے پی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملاقات کرانے کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسی روز گئے مگر ملاقات نہیں کرائی گئی، توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن درخواست ہی نہیں لگی، توہین عدالت کی پرانی درخواستیں لگیں تو انہیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا، ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا جس پر سپریم کورٹ چلے گئے۔ طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کی گئیں لیکن درخواست پر سماعت نہیں ہو سکی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن اس پر سنوائی نہیں ہوتی۔ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک کیس سماعت کے لیے مقرر ہے، اس مقدمے کے حوالے سے بھی عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات کرنے کی ہدایات جاری کیں، میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کیسے جواب داخل کرایا جا سکتا ہے؟ انہوں ںے کہا کہ میری ملاقات نہیں کروائی گئی مگر عدالت نے اس کیس میں بھی کاروائی کو آگے بڑھایا، عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ ملاقات کے بغیر ہی جواب بھی داخل کریں اور بحث بھی کریں، کسی بھی فریق کو اس کا موقف بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا چیف منسٹر نے فیصلہ کیا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے کورٹ میں کھڑے ہو کر پوچھیں گے، کیسز ختم ہونے پر چیف منسٹر نے اپنے بات کرنے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس صاحب اٹھ کر چلے گئے، ہم یہاں سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے، عمران خان کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل