Loading
تہران/واشنگٹن: میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 3.67 فیصد تک لانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی اے نے اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے معاہدے کے فریم ورک کے تحت سات سال کے لیے عارضی طور پر یورینیم افزودگی معطل کرنے کی بھی تیاری ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا حصہ ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کا معاہدہ طے پاتا ہے تو خطے میں کشیدگی میں کمی اور جوہری تنازع کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل