Thursday, February 26, 2026
 

آئینی بینچ کا اساتذہ کی تنخواہ و پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم

 



سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ نے اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور اضافی مراعات واپس لینے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے تنخواہ اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم صادر کردیا ہے۔ عدالت نے محکمہ خزانہ و دیگر کو مزید کارروائی سے بھی روک دیا۔ عدالت نے محکمہ تعلیم و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے ریمارکس میں حکم صادر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک اساتذہ کی تنخواہ یا پنشن سے کسی قسم کی جبری وصولی نہ کی جائے۔ وکیل اسد اللہ بلو کا کہنا تھا کہ درخواست گزار محکمہ تعلیم میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ ہیں، درخواست گزار ڈرائنگ ٹیچرز، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز اور ورکشاپ انسٹرکٹرز کے کیڈرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ متعلقہ اساتذہ کو سروس کے دوران قواعد و ضوابط کے تحت ترقی اور اپ گریڈیشن دی گئی۔ حکومتِ سندھ کی ٹائم اسکیل پالیسی کے مطابق گریڈ 15 سے 20 تک تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں، محکمہ فنانس نے 21 جنوری کو خط لکھا تھا۔خط کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بھی عملدرآمد کا مراسلہ جاری کیا، وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار نے کہا کہ تنخواہوں میں کٹوتی اور دی گئی اضافی رقوم کی واپسی غیر قانونی ہے، کئی اساتذہ تو ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل