Friday, February 27, 2026
 

افغان جارحیت کے خلاف سینیٹ میں متفقہ مذمتی قراراد منظور

 



سینیٹ نے مغربی سرحد پر افغانستان کی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قراراد منظور کر لی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کے غیر سنجیدہ رویے کا فوری نوٹس لے،  امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔  قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستانی قوم کے وقار اور خودمختاری کے اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب متناسب اور مؤثر انداز میں دیا جائے۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی دفاع کے لیے متحد کھڑے ہیں۔ قرارداد میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ افواجِ پاکستان ہر دور میں وطن کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں۔ قراداد میں کہا گیا کہ گزشتہ 40 برسوں سے پاکستان کو غیر معمولی سماجی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ افغانستان کی سرحد پار دراندازی اور پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی موجودگی دوطرفہ مفاہمت کے برخلاف رویے کی عکاس ہے، افغانستان فوری طور پر تمام معاندانہ اقدامات روکے۔ قرارداد میں افغانستان سے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور استحکام کی خواہش کا اعادہ کرتا ہے۔  پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو اسکا بھرپور جواب دیا جائے گا، جب ملک پر بات آئے گی تو ہم سب متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ دہشتگردی کی مذمت ہم کر دیتے ہیں مگر ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہو گا، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں مگر ہمارا فرض ہے کہ بہتری کے لیے  اقدامات کریں، مسئلے کا حل یہ ہے کہ ریجنل سیکورٹی فریم ورک بنایا جائے، جن جن ممالک کا اس خطے میں سٹیک ہے، ان پر مشتمل مشترکہ سیکورٹی فریم ورک بنایا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل