Loading
نامور پاکستانی اداکارہ عروہ اپنے نام کے ساتھ حسین کی جگہ انگلش میں ’ہوکین‘ لکھتی ہیں جس پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں مفتی صاحب کا ردعمل وائرل ہوگیا۔
اس وقت مختلف ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشنز نشر ہو رہی ہیں، جن میں مختلف اسلامی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مفتیانِ کرام شرکت کرتے ہیں اور مختلف سماجی و مذہبی معاملات پر اسلامی نقطہ نظر اور فتاویٰ پیش کرتے ہیں۔
عروہ حسین نادیہ خان کو ایڈمائر کر رہی ہے جبکہ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اس سوال کے پیچھے دماغ نادیہ خان کا ہی ہو گا ???? pic.twitter.com/5FuF9BnYhl
— کیڑےمکوڑے (@Form_45) February 26, 2026
حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں ایک مفتی صاحب نے اسلامی ناموں کو جان بوجھ کر تبدیل یا ماڈرن انداز دینے کے رجحان پر گفتگو کی۔
انہوں نے اداکارہ عروہ حسین (Urwa Hocane) کی جانب سے مبینہ طور پر حسین کی اسپیلنگ کو ’ہوکین‘ کرنے پر بھی اپنی رائے دی۔
پروگرام کے میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ ’مفتی صاحب آج کل سیلیبریٹیز جان بوجھ کر اسپیلنگ تبدیل کر رہے ہیں، اس پر آپ کا کیا مؤقف ہے کہ جیسے عروہ نے حسین کو ہوکین کر دیا ہے، جن کا اصل نام حسین ہے مگر اسے ہوکین بولا جاتا ہے؟
جس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ کسی کو بگاڑ کر نام سے پکارنا جائز نہیں ہے اور ہوکین عربی میں کوئی نام نہیں لہذا اس طرح کے ناموں سے پکارنا درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حضرت علی ابنِ ابی طالبؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو کسی کا نام بگاڑ کر پکار رہا تھا تو فرمایا کہ تم اس پر ظلم کر رہے ہو، کیونکہ کسی کا نام درست ادا کرنا اس کا حق ہے، یہ نام اس کے والدین نے رکھا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اسلامی نام رکھتے وقت بھی احتیاط کرنی چاہیے، جیسے محمد نام رکھنے سے بعض لوگ اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس کے تقاضے اور احترام زیادہ ہیں، اسی طرح جان بوجھ کر نام تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل