Friday, February 27, 2026
 

پاک ترکیہ زرعی تعاون اور کسانوں کی امید

 



پاکستان، ترکیہ زرعی معاہدہ بہ ظاہر ایک روشن تصویر ہے، ترکیہ کا زرعی تجربہ واقعی قابل رشک ہے۔ گرین ہاؤس فارمنگ، ڈرپ ایری گیشن، ہائی ویلیو سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور یورپی معیارکی برآمدات اور بہت کچھ ترکیہ کی زراعت کے پاس ہے اور پاکستان کے پاس زمین تو ہے زرخیز، مگر ناکافی پانی کے ساتھ اور کبھی شدید پانی کی طلب کے ساتھ محنت ہے لیکن وہ صحیح جگہ استعمال نہیں ہو رہی۔ غیر پیداواری کاموں میں محنت ضایع ہو رہی ہے اور پاکستان میں زراعت کا مسئلہ کم پیداوار نہیں بلکہ کم انصاف یا ناانصافی ہے، یہاں فصل کسان پیدا کرتا ہے اور آڑھتی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ یہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے لیکن مافیا کے میدان میں قید ہو جاتی ہے۔ کہیں سرکاری گوداموں میں ضایع ہو جاتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، اکثر چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے کہ اتنے ہزار ٹن گندم بارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یا نامعلوم وجہ سے ضایع ہوگئی۔ ہم زراعت کو ریڑھ کی ہڈی توکہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریڑھ کی ہڈی اب جھک گئی ہے کیونکہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں غریب کسانوں کی زندگی کا حساب یوں عذاب میں بدل چکا ہے یعنی بیج، قرض، کھاد، قرض، ڈیزل، ٹیوب ویل، فصل کی قیمت آڑھتی طے کرے گا اور منافع جس کا خواب اب اگلے سال کے لیے کسان دیکھے گا اور کسان کے پاس حسرت ناکامی ہے۔ البتہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کی باتوں سے اسے کامیابی کی امید نظر آنے لگی ہے،کیونکہ ترکیہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستانی کسانوں کے لیے ایک موقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خدشہ بھی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے پاس رہی تو یہ موقع ایک نئی طبقاتی دیوار بن جائے گا،کیونکہ یہاں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آئے گی اس کے لیے سرمایہ چاہیے، بڑی رقم چاہیے وہ غریب کسان کے پاس ہے نہیں۔ اس کے ہاتھ خالی ہیں، ایسے میں پھر سرمایہ دار اس کا حق چھین کر لے جائے گا۔ یہ تعاون کا منصوبہ بہت زیادہ احتیاط طلب کرتا ہے کیونکہ بڑے زمیندار سرمایہ کی بدولت جدید فارمنگ کریں گے۔ ملکی پیداوار تو بڑھے گی لیکن چھوٹا زمیندار پرانی کھیتی کرتا رہ جائے گا۔ اس کی پیداوار کم ہوگی اور زرعی عدم مساوات بڑھ جائے گی، لہٰذا حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوٹے اور اصلاح احوال کس طرح کی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں زرعی مارکیٹ کا آزاد نظام نہیں بلکہ ایک طاقتور گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ، سپلائی سے نہیں بلکہ گودام کی چابی سے زیادہ طے کی جاتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ زرعی تعاون کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور خوراک کی مہنگائی کم ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی برقرار رہی تو مہنگائی برقرار رہے گی۔ پاکستان اس وقت خام مال زیادہ بیچ رہا ہے اور کم ڈالر کما رہا ہے۔ پاکستان اپنی سبزیوں پھلوں وغیرہ کو ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرکے برآمد کرے۔ ترکیہ اس میدان میں ماہر ہے اگر پاکستان نے اس سے سیکھ لیا تو یہ معاہدہ ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زرعی منصوبے کو ترقیاتی منصوبہ کہا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ سرمایہ کے بل بوتے پر مشینری کی درآمد بڑھے گی اور چند گروہ فائدے میں رہیں گے اور کسان کی فصل، سبزیاں، پھل وغیرہ کی قیمتیں وہی طے کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ پاکستان کا کسان موسم کی سختی، پانی کی کمی بیشی، کھاد کے کم یا زیادہ ڈالنے، بیج ناقص ہو یا اصلی ہو، وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ فصل کم ہو یا زیادہ قیمت کا تعین کرنے والا اپنا فائدہ دیکھتے دیکھتے اسے شدید نقصان سے دوچار کرجاتے ہیں کیونکہ یہاں کا نظام بے حس ہو چکا ہے۔ پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔ یہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت کی بقا سے جڑا ہوا ہو۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ عوام کے لیے مہنگائی میں کمی بھی لے کر آئے، اگر حکومت نے اسے عوام دوست اور کسان کے لیے فائدے کی شکل میں ڈھال دیا تو چھوٹے کسانوں کی حالت بدلی جا سکتی ہے، اگر یہ منصوبہ دیگر مافیاز کے پاس چلا گیا تو قوم کو صرف ایک اعلان ملے گا اور کسان کے سر پر مزید قرض کا بوجھ۔ لہٰذا مجوزہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کو بہت زیادہ چھوٹے کسان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں زیادہ عمل دخل سرمائے کا ہے، لہٰذا چھوٹے کسانوں کے فائدے کے لیے جب ہی ڈھالا جا سکتا ہے جب ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ تعاون ایک شاہکار تعاون میں اسی وقت بدل سکتا ہے جب مہنگائی بھی کم ہو اور کسان جو امید لگائے بیٹھا ہے اس کی امید بھی پوری ہو۔ یہ معاہدہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، غریب کسانوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام ہے جہاں کھیتوں سے امید کی کرن پھوٹے گی اور خوشحالی کے سبز خواب حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ یہ ان تھکے ہارے ہاتھوں کو تھامنے والا سہارا ہے۔ اب انھیں ترکیہ کے ساتھ مل کر پیداوار سے بھرپور ایک روشن صبح کی امید نظر آ رہی ہے لیکن خدشات بھی بہت ہیں شاید وہ حکومت کو نظر آ جائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل