Friday, February 27, 2026
 

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

 



غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔  آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔ یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔آج میں اسے سیر پر لے گیا۔بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گذر رہا ہوں۔ کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں رہنے والی خاتون امل السامری اور ان کے شوہر نے تین بچوں کی خاطر رمضان کا ’’ ماحول ‘‘ محسوس کروانے کے لیے اچھے سے جھونپڑی کی صفائی کی اور پانی کی شدید قلت کے باوجود یکم رمضان کو بچوں کو دھلے ہوئے کپڑے پہنائے۔ امل السامری کو تین برس پہلے کا پرامن رمضان ایسے لگتا ہے گویا تین صدیوں پہلے کی بات ہو۔تب کیسے سب مل کے بازار جاتے تھے۔آرائشی قمقمے خریدتے تھے۔رمضان میں ہی بننے والی روائیتی مٹھائیاں کھاتے بھی تھے اور رشتے داروں کو بھی بھیجتے تھے۔ فجر کی اذان تک چہل پہل اور پھر آرام۔پچھلے ماہ طوفانی بارشیں جھونپڑی اڑا لے گئیں۔نئی بنانے میں بہت وقت لگا۔بجلی اور صاف پانی تو مدت سے ایک خواب ہیں۔روایتی قمقموں کی قیمت دوگنی تگنی ہے۔پھر بھی اکا دکا تباہ شدہ گھروں اور خیموں کے باہر گھپ اندھیرے میں اپنی چمکیلی پٹیوں کے سبب یہ قمقمے روشنی کا گمان پیدا کرتے ہیں۔اردگرد کے بچے ان کے گرد پتنگوں کی طرح جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو بھی چھوٹا موٹا بازار ان خیمہ بستیوں اور کھنڈروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔بچے وہاں کا چکر لگا کے من بہلا لیتے ہیں۔ غزہ میں کرسمس ہو یا رمضان ، خوشیاں مشترک ہیں۔ماہر ترزی فلسطینی مسیحی ہیں اور عمر کی پچھتر چھہتر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ شام گئے زاویہ مارکیٹ میں نکل آتے ہیں۔بچے ان کو گھیر لیتے ہیں اور پھر سب مل کے گیت گاتے ہیں ’’ کیسی خوبصورت روشن رات ہے ، ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بھی مسکرا رہا ہے… ماہر ترزی کہتے ہیں کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ زندہ رہنا شرط ہے۔یہ دن بھی گذر ہی جائیں گے۔ غزہ میں بنیادی خوراک کے نرخ نامے کا ڈھائی سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو تصویر واضح ہو جائے گی کہ رمضان کیسا گزر رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق مرغی کا گوشت اسی فیصد ، فروزن مچھلی ایک سو نوے فیصد ، فروزن بیف پچھتر فیصد ، انڈہ ایک سو ستر فیصد ، کھیرا تین سو فیصد ، ٹماٹر سو فیصد ، آلو سڑسٹھ فیصد ، چاول پچاس فیصد ، زرد پنیر سو فیصد اور خوردنی تیل اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں سو فیصد مہنگا ہے۔یعنی چھ نفوس پر مشتمل کنبے کو مناسب افطار تیار کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم درکار ہے۔یہ بجٹ ڈھائی برس پہلے کے مقابلے میں نوے فیصد زائد ہے۔ لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا حالت ہے ؟ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے بارہ سو ڈالر تھی جو اب ایک سو اکسٹھ ڈالر ہے۔کاروبار ، ماہی گیری اور زراعت برباد ہو چکے لہذا بے روزگاری کا تناسب پچانوے فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ۔مگر لوگ روزگار کے امکانات بھول بھال کر اس فکر میں ہیں کہ کل بچوں کے لیے کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں۔ غزہ کو اس وقت خوراک اور رسد سے بھرے کم ازکم ایک ہزار مال بردار ٹرک روزانہ درکار ہیں۔دس اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل چھ سو ٹرکوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔مگر روزانہ دو سو سے ڈھائی سو ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں ۔ صرف دس مقامی تاجروں کو چار اسرائیلی کمپنیوں سے سامانِ خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کا سامان خریدنے کی اجازت ہے۔اب یہ اجارہ دار کمپنیاں اور تاجر جتنی چاہیں قیمت وصول کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اسرائیل بار بار کے بین الاقوامی مطالبات کے باوجود پانچ مہینے سے غزہ کی گذرگاہیں پوری طرح نہیں کھول رہا۔کیونکہ پھر رسد کی مقدار بڑھ جائے گی اور مسابقت کے سبب چیزیں سستی ہوں گی۔جب فلسطینیوں کا پیٹ بھرے گا تو وہ زیادہ شدت سے آزادی اور غلامی کا موازنہ کرنے لگیں گے اور فلسطینیوں کی گردن پر گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑ جائے ، یہ نہ تو اسرائیل کو منظور ہے اور نہ ہی اس کے مددگاروں کو۔ان حالات میں اہلِ غزہ کی عید کیسے گذرے گی۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے سماج میں بے سروسامانی کے باوجود جو حرکتیں قابِل نفرین سمجھی جاتی ہیں ان میں سب سے اوپر بھکاریوں کی طرح کسی کا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ہے۔ان بے آسرا بستیوں کے رمضان میں شائد ہی کہیں ایسا کوئی منظر نظر آئے۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل