Loading
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے جس میں اہم کمانڈرز کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان پر حملے میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کارروائیاں وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔
یہ خبر بنائیں: آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید
اسرائیلی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو اور میں نے اسرائیلی فوج کو حزب اللہ کے خلاف طاقت کے ساتھ کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک بڑے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔
یہ پڑھیں؛ آیت اللہ خامنہ ای کی جاسوسی کیسے کی گئی؟ شہادتِ رہبر اعلیٰ کی لمحہ بہ لمحہ کہانی
ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول اس کارروائی میں حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو نشانہ بنایا گیا تاہم حملے کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
حزب اللہ کی جانب سے ردعمل
حزب اللہ نے فوری طور پر اپنے سربراہ نعیم قاسم کے بارے میں اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی البتہ تنظیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
فلسطین کی ایک جہادی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے بیروت میں حملے میں ان کے ایک اہم کمانڈر ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل