Monday, March 02, 2026
 

ایک پرانا قصہ

 



مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔ اول تو اس کی تھوڑی بہت خاندانی زرعی زمین تھی، اس میں کاشت و برداشت کرنے کا ارادہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اس نے درزی کا کام سیکھا تھا کیونکہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا، گاؤں کی مسجد کا پیش امام جو کسی کوہستانی علاقے کا تھا، فوت ہوگیا تو گاؤں والوں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ امامت کے لیے رضامند نہیں ہوگیا لیکن امامت شروع کرکے بھی وہ اپنی زمین میں کاشت و برداشت خود کرتا تھا۔رمضان کی آمد تھی، دس پندرہ دن رہ گئے تھے کہ اس کے پاس ایک سردار کا بلاوا آگیا۔ سردار گاؤں کے قریب ایک گڑھی کا رہائشی تھا۔ بہت بڑی جائیداد کا مالک اور دولت مند آدمی تھا۔ مولانا خان رشید نے اسے صرف دور سے دیکھا تھا اور سنا تھا کہ اچھا آدمی نہیں ہے، ہر ایسا کام جسے لوگ برا سمجھتے تھے ، وہ دھڑلے سے کرتا تھا۔ اس کے ڈیرے میں ہر وقت کھیل تماشے ہوا کرتے تھے اور بے شمار جرائم پیشہ لوگ اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ پولیس اور سرکار دربار میں بھی اس کی پہنچ تھی اور بڑے لوگوں سے بھی یارانے تھے۔نہ وہ کبھی مسجد آیا تھا اور نہ مولانا خان رشید اس سے کبھی ملا تھا۔ اس طاقتور شخص کے بلانے پر اس کا جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر گیا کہ شاید اس میں کچھ سدھار آگیا ہو۔ وہ جب موصوف کے وسیع و عریض ڈیرے میں پہنچا تو بہت سارے لوگ ڈیرے کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ صفائی کررہے تھے ،کچھ چونا سفیدی اور کچھ رنگین کاغذوں کے پھریرے لگا رہے تھے۔ ڈیرے دار بیچ میں ایک سجے ہوئے پلنگ پر بیٹھا تھا۔آس پاس گاو تکیے تھے۔اس وقت ایک نوکر اسے حقہ پلارہا تھا۔مولانا خان رشید کو دیکھ کر وہ زور سے چلاتے ہوئے بولا،آہاہاہا ’’ملا صیب‘‘ آگئے ہیں ، آؤ آؤ ملا صیب۔مولانا  اس کے پاس گیا، طاقتور شخصیت نے مصافحے کے لیے صرف ایک ہاتھ بڑھایا، مصافحہ کرتے ہوئے مولانا کو اس سے نہایت ہی ناگوار بدبُو محسوس ہوئی، مولانا نے چادر کے پلو کو ناک پر رکھا۔ وڈیرے نے اپنی پائنتی کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا،بیٹھو ’’ملاصیب‘‘۔ مولانا بیٹھ گیا، بدبُو اور تیز ہوگئی لیکن اس نے اپنی ناگواری کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔آپ نے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا۔’’ہا ں ہاں میں نے اس لیے بلایا تھا کہ روزے پھر آرہے ہیں،ویسے ان روزوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے، ابھی گئے نہیں ہوتے کہ پھر آجاتے ہیں، ٹک سلامالیکم ہاں رمضان المبارک آنے والا ہے یہ رمضان اور مبارک کون؟ میں روزوں کی بات کررہا ہوں بہت برکتوں والا مہینہ ہے خان۔ہوگا مجھے برکتوں کی کوئی ضرورت نہیں خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے بس آپ کسی طرح ان روزوں سے چھٹکارا دلا دو۔یہ آپ کیا کہہ رہے روزے فرض ہیں میں کون ہوتا ہوں چھٹکارا دلانے والا۔سنا ہے تم بہت کچھ پڑھ کر آئے ہو۔ مجھے تو ان روزوں سے چھڑاؤ۔دیکھو میں سحری بھی خوب کرتا ہوں اور افطاری کے وقت تو یہاں پوری عید ہوتی ہے لیکن نشئی آدمی ہوں روزے نہیں رکھ سکتا۔روزے تو فرض ہیں خان۔کوئی اس سے معافی نہیں دلاسکتا۔ارے تم ملا لوگوں کے پاس وہ جو کتاب ہوتی ہے اس سے مسئلہ نکالونا۔ کتاب تو قرآن ہے اور اس میں روزے فرض ہیں۔نہیں میں قرآن کی نہیں اس دوسری کتاب کی بات کررہا ہوں دوسری کتاب؟ ہاں وہ جس سے تم ملا لوگ خاص لوگوں کے لیے مسئلے نکالتے ہو۔میں ایسی کسی کتاب کے بارے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میرے داداجی خدا ان کو بارہ جنتیں نصیب کرے۔جنتیں بارہ نہیں آٹھ ہیں۔جتنی بھی ہیں سب ان کو نصیب کرے میرے داداجی کو جب اپنی بیوہ بہو سے شادی کرنے کی خواہش ہوئی تو اس وقت ملا نے اسی کتاب سے مسئلہ نکالا تھا اور میرے باباجی جب اپنی بھانجی سے…۔ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔ ہے ہے ہے تم نئے ہو تم کو پتہ نہیں ہوگا غم نہ کرو جتنے بھی روپے میں ملتی ہو میں دے دوں گا تم وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ اور اس میں سے مسئلہ نکال کر مجھے ان روزوں سے چھٹکارا دلادو ۔میں نے کہا نا کتاب صرف قرآن ہے۔ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر مولانا خان رشید کھڑا ہوگیا۔معافی چاہتا ہوں خان۔اور جانے کو قدم بڑھایا۔ٹھہرو، خان نے کہا پھر زور سے آواز دی منشی۔ آواز پر اندرسے ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا اور خان کے پاس دوڑ کر پہنچا۔جی خان جی۔دس ہزار روپے لاؤ۔منشی نے واسکٹ کی جیب سے بنڈل نکالا۔ملا صیب کو دے دو۔اور بولا۔ ملاصیب یہ پیسے لو اور آج ہی جہاں سے بھی ہو وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ۔مولانا خان رشید نے نوٹوں کے لینے سے انکار کیا۔بولے خان مجھے معاف کرنا کسی اور سے یہ کام کراوئیں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے سنا کہ پاس کے گاؤں کے مولانا نے خان کو روزے معاف کردیے۔ خان رشید اس مولانا کو جانتا تھا کافی عالم فاضل اور نیک آدمی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے؟اس نے سوچا اور سیدھا اس مولانا کے پاس پہنچا۔استاذجی کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اس سردار کو روزے نہ رکھنے کا کہہ دیا؟ ہاں مولانا نے ہنستے ہوئے کہا۔مگر کیسے؟خان رشید حیران تھا۔وہ ایسے کہ اسے کلمہ آتا ہے نہ نماز، دنیا میں ایسا کوئی صغیرہ کبیرہ گناہ نہیں جو وہ نہ کرتا ہو بغیر نکاح کے بیویاں رکھے ہوئے ہے۔اس میں مسلمان ہونے کا عمل ہے کیا، جو میں اس مبارک مہینے کی اس سے توہین کراؤں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل