Monday, March 02, 2026
 

یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے

 



محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔آخری برسوں میں وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر تک محدود کر دیے گئے اور چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ احمدی نژاد اسرائیل کے کھلے نظریاتی دشمن تھے۔دو ہزار پانچ میں انھوں نے اپنے اس بیان سے بین الاقوامی شہرت پائی کہ اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔وہ نازی ہالوکاسٹ ( یہودی نسل کشی ) کو ایک صیہونی ڈرامہ قرار دیتے تھے جس کے ذریعے اسرائیل برس ہا برس سے دنیا کو بلیک میل کرتا آیا ہے۔ دو ہزار نو میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو ایک نسل پرست عالمی ناسور قرار دیا۔چنانچہ اسرائیل کے حامی کئی ممالک اس اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ اکتوبر دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو زوم پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی اداروں میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور قلع قمع کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔ان میں سے بہت سے دو ہزار اکیس میں بھانڈا پھوٹنے کے بعد فرار ہو گئے اور اسرائیل نے انھیں پناہ دے دی۔ ان ایجنٹوں نے اسرائیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حساس ترین معلومات پہنچائیں۔بالخصوص دو ہزار اٹھارہ میں موساد جوہری پروگرام سے متعلق سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب رہی۔اس ڈیٹا کو صدر ٹرمپ نے دو ہزار پندرہ میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا بہانہ بنایا اور حساس مواد کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بطور حوالہ شامل کیا۔ نومبر دو ہزار بیس میں موساد ایجنٹوں نے ایران کے اعلی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک کمپیوٹرائزڈ مشین گن کے ذریعے قتل کیا۔اس کے بعد اس مشین گن کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کر دیا گیا۔  جولائی دو ہزار چوبیس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔انھیں جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا اسے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس واردات میں سوائے اپارٹمنٹ کے باقی عمارت محفوظ رہی۔یہ عمارت پاسدارانِ انقلاب کا ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاؤس تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے عملے سمیت درجنوں انٹیلی جینس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو شدید بمباری کر کے قتل کیا۔اس واردات کے بعد فرانسیسی اخبار ’’ لا پیریسیاں ‘‘ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ حسن نصراللہ کی اس مقام پر موجودی کی رئیل ٹائم انفارمیشن اسرائیل کو بیروت میں ایک ایرانی ذریعے نے فراہم کی تھی۔ جون دو ہزار پچیس میں بارہ روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے دس جوہری ماہرین اور فوج کی اعلی قیادت صاف ہو گئی۔جنگ کے بعد سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔متعدد افغان پناہ گزین پکڑے گئے چنانچہ لاکھوں پناہ گزینوں کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔مگر موساد اور سی آئی اے کا جال پھر بھی نہ ٹوٹ سکا۔ اس کا ثبوت رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی رحلت سمیت وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادے ، فوجی کونسل کے سربراہ علی شمخانی ، ڈپٹی انٹیلی جینس منسٹر محمد شیرازی ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور پاسداران کے فضائی ونگ کے سربراہ ماجد موسوی سمیت ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے چالیس سے زیادہ اعلی اہلکاروں کا خاتمہ ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اصولی طور پر اسرائیل اور امریکا نے دسمبر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل نظام بھی ختم کرنا ہے۔فروری میں جب ایران میں سرکار مخالف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں پرتشدد انداز میں دبایا گیا تو ’’ رجیم چینج ‘‘ کی کوشش بھی منصوبے کا حصہ بن گئی۔چنانچہ امریکا نے دو طیارہ بردار اسٹرائیک فورسز کو علاقے میں پہنچنے کا حکم دیا۔ ایران میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد اسرائیل اور امریکا کے اعلی فوجی و سیاسی منصوبہ سازوں کی تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ایران مذاکرات کی میز پر لایا گیا مگر اس کے سامنے ایسی شرائط رکھی گئیں جنھیں وہ یکسر مسترد کر دے۔یعنی مذاکرات کا مقصد مطلوبہ فوجی قوت کے اجتماع اور منصوبہ بندی مکمل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔ ایرانیوں کو اچھے سے معلوم تھا کہ ان کے اعلی ترین اہلکاروں کی نقل و حرکت کی زمین ، فضا اور خلا سے پل پل کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسی طرح کی کارروائی ہو سکتی ہے جس طرح اچانک بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ فرض کر لیا گیا کہ کم ازکم ایران کی اعلی ترین سیاسی قیادت کو دن دہاڑے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔کیونکہ آج تک دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا لہذا اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔ شائد اسی سوچ کے تحت علی خامنہ ای صاحب کو کسی محفوظ بینکر میں منتقل نہیں کیا گیا اور سنیچر کی صبح انھی کے دفتر میں اعلی قیادت کا اجلاس رکھ لیا گیا۔جیسے ہی یہ اطلاع تل ابیب پہنچی۔اس نے واشنگٹن سے رابطہ کیا کہ ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔چنانچہ باہمی رضامندی سے حملے کے پلان میں ہنگامی تبدیلی کی گئی اور اسرائیلی فضائیہ اور خلیجِ اومان میں موجود ایر کرافٹ کیریر کے جہازوں کو اڑان بھرنے کا اذن دے دیا گیا۔اور پھر رہبرِ اعلی کے کمپاؤنڈ میں ان تین مرکزی کمروں پر دو دو ہزار پاؤنڈ کے بینکر بسٹر میزائل داغے گئے جہاں ایران کی اعلی قیادت کو بیٹھ کر اگلا ’’ مذاکراتی ‘‘ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل