Loading
کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔ صرف فروری کے مہینے میں دو گیس دھماکوں میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق 22 فروری کو عین سحری کے آخری لمحات میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع ایک رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔
قریبی فلیٹ اور کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس واقعے سے قبل 19 فروری کی خبر کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، حادثے میں ایک بچی سمیت 16 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کا متاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں صرف ان دو واقعات میں کئی خاندانوں کا رمضان اور عید کا تہوار بھی غارت ہوگیا۔
کراچی شہر میں سلنڈرز سے دھما کے ہونے کے واقعات اب تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً ایک وجہ گیس کی معمول کی سپلائی میں کمی اور لوڈشیڈنگ ہے، لٰہذا جن شہریوں کے گھروں میں گیس کے کنکشن موجود ہیں، انھیں بھی پکانے کے لیے الگ سے سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اب تقریباً تمام شہریوں کو ہی سلنڈرز استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے، اس طرح سے بازار میں ان کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کے سبب بازار میں غیر معیاری سلنڈرز کثرت سے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بازار میں جو غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں، ان کی لائف تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی کوئی توجہ اس طرف نہیں دی گئی، نہ کوئی مہم چلائی گئی کہ یہ غیر معیاری سلنڈر کیسے بازار میں فروخت ہو رہے ہیں؟
بات یہ ہے کہ عوام تو سلنڈر کے حوالے سے اتنی آگہی نہیں رکھتے اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، لہٰذا اگر وہ ایک سستا سلنڈر فروخت ہوتا دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ پھر اس کی ہر سال مینٹیننس اور چیکنگ پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے کو روکا جاتا، حکومتی ادارے اس کو چیک کرتے، لیکن ہمارے ادارے اس اہم معاملے پر بھی خاموش ہیں جب کہ عوام کو شعور بھی نہیں۔
دوسری ایک اہم خطرناک بات یہ ہے کہ اب رہائشی عمارتیں کراچی شہر میں انتہائی اونچی تعمیر ہو رہی ہیں، کہیں کئی منزلہ پورشن ہیں تو کہیں بلند وبالا فلیٹ ہیں۔ اب ظاہری سی بات ہے، ان تمام عمارتوں میں کھانا پکانے کی ضرورت تو ہے اب چونکہ گیس کی سپلائی مستقل نہیں ہے تو لوگوں نے فلیٹ کے اندر بھی سلنڈر رکھ لیے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جیسا کہ حال ہی میں حیدری کے قریب دسویں فلور پہ دھماکے سے فلیٹ کو نقصان پہنچا، ہلاکتیں ہوئی اور آگ لگ گئی۔ خدانخواستہ یہ اگر نیچے کی منزل میں واقعہ ہوتا تو اوپر جتنے بھی فلیٹ تھے وہ اس کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خطرناک معاملہ شہر میں چل رہا ہے، جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
جب سے شہر کراچی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں مثلاً مذکورہ بالا واقعات میں گیس کی لیکیج کا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے بعد جب گیس اچانک تیزی کے ساتھ آئی تو دھماکے کا باعث بنی۔ عموماً اس قسم کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ گیس بند تھی لیکن جب لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی تو اچانک سے گیس آنے سے، گیس گھر میں بھر گئی اور گھر کے افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ شہریوں کو ابھی اتنی آگاہی نہیں ہے، کوئی بھی غلطی سے چولہا کھلا چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی جب گیس آتی ہے تو پتہ نہیں چلتا جس کے باعث گیس گھر میں بھر جاتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔ یہ معاملات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔
ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بڑا خطرناک ہے کہ کراچی میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اب بھی جاری ہے اور اب بھی ہم مغرب کی نقالی میں (یا صرف پیسہ کمانے کی خاطر) اونچی اونچی رہائشی عمارتیں تیزی سے تیار کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان عمارتوں میں مناسب طریقے سے گیس بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ہم کمانے کے لیے مغرب کی نقالی تو کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مغرب میں تو عوام کی ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدگی سے شہریوں کا میڈیکل چیک اپ بھی ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں غیر معیاری سلنڈر فلیٹوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں یہ کس طرح سے فروخت ہو رہے ہیں؟ کون ان کو فروخت کر رہا ہے؟ اور اگر بلند و بالا عمارت بنائی ہیں تو ان میں مناسب سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ گیس کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟ ایمرجنسی گیٹ کہاں ہیں؟ فائر بریگیڈ کی کیا صورتحال ہے؟ ان عمارتوں میں ایمرجنسی آلات کس حد تک ہیں؟ کیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے؟
کس قدر احمقانہ بات ہے کہ فلیٹوں میں بھی رہنے والے گیس کے سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور یہ حال اب صرف لیاری یا موسیٰ کالونی جیسے غریب علاقوں کا نہیں۔ نارتھ ناظم آباد، حیدری جہاں دھماکے میں فلیٹ میں آگ لگ گئی وہ کراچی کا ایک بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ افسوس ہم ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے قبل کے اسی طرح کے مزید واقعات آیندہ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی رہیں، فوری طور پہ اس حوالے سے حکومت سخت ایکشن لے اور حکومتی ذمے دار ادارے تمام مارکیٹ کا سروے کریں۔ تمام مارکیٹ میں چیکنگ کی جائے کہ کہاں کہاں غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ گیس کو بھی پابند کیا جائے کہ جہاں جہاں انھوں نے قانونی کنکشن دیے ہیں وہاں بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے یا گیس کی جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ضروری ہو، وہاں ایک یونیفارم پالیسی کے تحت ہی لوڈ شیڈنگ کی جائے اور یہی پالیسی سب کے لیے ہو، کیونکہ عموماً لوڈ شیڈنگ کے بدلتے شیڈول سے شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور انھیں اس کی ٹائمنگ بھی یاد نہیں رہتی جس کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔
ہماری صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور خاص کر منتخب نمائندوں کو اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ شہریوں کی جان اور مال کا مسئلہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل