Loading
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟
ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر "مجلسِ خبرگان" یعنی 'اسمبلی آف ایکسپرٹس' کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/v/18MbmM8HVW/
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی 'مرجع' کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔
ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔
یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل