Thursday, March 05, 2026
 

عمرہ اجازت کیلیے شیخ رشید کی درخواست پر ہائیکورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے

 



سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔ پٹیشن کی سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد ایک تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ جو شخص جب بھی عمرہ پر گیا ہو اور بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے سے روکنا کیا آئین میں دی گئی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کی خلاف ورزی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ سرکار واپسی کی گارنٹی لے کر سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اتھارٹی سے اس حوالے سے اجازت کا موقف معلوم کریں۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی وجہ سے روکا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسے روکنے کے لیے کوئی واضح قانون موجود ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ عدالت اس کیس کو تفصیلی طور پر سن کر آئین کے آرٹیکل 28-A کے تحت فیصلہ کرے گی۔ شیخ رشید احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ 17 مرتبہ پاکستان کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں لیکن آج انہیں عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی مقدمات کے دوران وہ 8 مرتبہ بیرون ملک گئے اور ہر دفعہ 8 سے 10 دن کے اندر واپس آتے رہے، تاہم اس مرتبہ انہیں 6 ماہ سے عمرہ پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ وکیل سردار عبدالرازق خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکال چکی ہے لیکن انہیں دوبارہ بغیر کسی وجہ کے سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کسی دفعہ کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد نے اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ عدالت میں پیش کی۔ اس موقع پر جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی سے پنسل بھی نہیں لے سکتے، اگر آپ کتاب ہائیکورٹ کو دینا چاہتے ہیں تو تحریری طور پر ہائیکورٹ کی لائبریری کو دے دیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو پورا دن سن کر مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل