Loading
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کو نئی شکل دینے والی جی ایل پی-1 ادویات نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
بدھ کے روز برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے تجزیے میں ذیا بیطس میں مبتلا چھ لاکھ سے زائد امریکی ویٹرن افیئرز مریضوں کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ یہ ادارہ ان افراد کی دیکھ بھال کرتا ہے جو امریکی فوج میں خدمات دے چکے ہوتے ہیں۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو اوزیمپک اور مونجارو جیسی ادویات استعمال کرتے ہیں ان کے الکوحل، نِکوٹین، کوکین، اوپیائڈز اور دیگر اشیاء کے نشے میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے تھے ان میں جی ایل پی-1 ادویات کا تعلق اسپتال میں داخلے، اوور ڈوز اور موت کے کم خطرات سے پایا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل