Saturday, March 07, 2026
 

کراچی؛ ٹریفک جام، ٹوٹے روڈ، ہنگامی صورتحال میں سیکیورٹی سروسز میں رکاوٹ کا باعث

 



کراچی میں معمول کے ٹریفک جام اور جگہ جگہ ٹوٹے اور کھدے ہوئے راستے بھی پولیس، فائر برگیڈ اور ایمبولینس کے لیے ہنگامی صورتحال میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں پولیس سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کا ریسپانس ٹائم مختلف ہے، اس کا دارومدار متعلقہ جگہ کی لوکیشن، دستیاب وسائل اور ٹریفک منیجمنٹ پر ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر دنیا کے بڑے شہروں میں ریسپانس ٹائم 10 سے 15 منٹ ہوتاہے، تاہم کراچی جیسے شہروں میں اس کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے،جہاں غیر معمولی ٹریفک جام، دور دراز واقع علاقوں اور گنجان آبادیوں تک پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔  مددگار ون فائیو کے ایس ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی کے مطابق کراچی میں عمومی طور پر ریسپانس ٹائم 10 سے 15 منٹ ہوتاہے لیکن انفراسٹرکچر کے مسائل اور متعلقہ علاقوں تک رسائی میں حائل مشکلات کے باعث پولیس اور دیگر اداروں کو زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلشن معمار اور سرجانی ٹائون جیسے دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں 20 سے 25 منٹ لگ جاتے ہیں۔  مذکورہ کال سینٹر کے انچارج ٹریننگ شعیب احمد کے مطابق کئی لوگ فضول قسم کی کالیں کرکے ان کا وقت بھی ضایع کرتے ہیں، مثال کے طور پر رواں سال جنوری کے مہینے میں دو لاکھ سے زائد کالیں موصول ہوئیں جن میں کارروائی کے لائق کالز کی تعداد صرف 22 ہزار تھی۔ ان کے مطابق ان میں 11 ہزار سے زائد کالز پرینک کالز تھیں۔  معروف تجزیہ نگار اور شہری مسائل پر لکھنے والے مصنف فاروق راجپوت کے مطابق اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ خراب انفراسٹرکچر اور ٹریفک جام کی وجہ سے ریسکیو اور ایمرجنسی سے وابستہ اداروں کے لیے کسی بھی جگہ بروقت پہنچنے میں رکاوٹیں ہوتی ہیں، گل پلازہ کے حالیہ سانحہ میں بھی یہ ہی دیکھا گیا کہ صدر میں چند منٹ کے فاصلے پر واقع فائر برگیڈ کی گاڑی کو بھی جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تین گنا زیادہ وقت لگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل