Saturday, March 07, 2026
 

ماریہ بی کا معروف خواجہ سرا کے الزامات پر سخت ردعمل

 



فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے خود کو خواجہ سرا قرار دینے والے سماجی رہنما ڈاکٹر مہرب معز کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر سخت رد عمل دیا ہے۔  ماریہ بی پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر اور کاروباری شخصیت ہیں جو ملک میں ایل جی بی ٹی کیو اور صیہونیت کے خلاف اپنے مؤقف کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتی ہیں۔         View this post on Instagram                       مہرب معز اعوان بھی ایک معروف پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا شخصیت ہیں جو اکثر ماریہ بی پر تنقیدی بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، خاص طور پر جب ماریہ بی ٹرانس جینڈر افراد کے معاملے پر آواز اٹھاتی ہیں۔ حال ہی میں مہرب معز اعوان نے الزام لگایا کہ ماریہ بی کے شوہر ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اور مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپ پر انہیں پیغامات بھیج کر ملاقات کی پیشکش کرتے تھے۔         View this post on Instagram                       اس معاملے پر ماریہ بی نے مہرب معز کو سخت جواب دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی وارننگ دے دی۔  ماریہ بی نے کہا ’معیز ڈارلنگ، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر جعلی ایڈیٹس پوسٹ کرنا جرم ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ اس بات سے واقف ہیں، مگر اس شخص سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے جس نے ماضی میں خود اپنے بارے میں بھی جھوٹ بولا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا شخص کچھ بھی کر سکتا ہے، پہلے یہ معاملہ صرف آپ اور میرے درمیان تھا، لیکن اب آپ نے میرے خاندان پر حملہ کیا ہے۔ ماریہ بی کا کہنا تھا کہ دوسروں کی کردار کشی کرنا یا کیچڑ اچھالنا نام نہاد دیسی لبرلز کا پرانا طریقہ ہے تاکہ وہ اپنے مقصد سے توجہ ہٹا سکیں، لیکن اب میں خاموش نہیں رہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گی اور ان اشاعتوں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کروں گی جنہوں نے بغیر تصدیق کے یہ خبر شائع کی۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین ماریہ بی کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایل جی بی ٹی کیو ایجنڈے کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جاری رکھیں۔ کچھ صارفین نے ماریہ بی کے پرانے پوڈکاسٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں مہروب معیز اعوان ایک حیاتیاتی مرد ہونے کے باوجود مردوں سے ڈیٹنگ کو سراہتے دکھائی دیتے تھے اور بعد میں انہوں نے خود کو ٹرانس جینڈر قرار دے دیا تھا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل