Loading
صنعتی شعبے کے نمائندوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55روپے فی لیٹر اضافے کو مسترد کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس فی الفور معطل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فُدا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران کے فیول کوٹے میں بھی 50فیصد کمی کی جائے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صنعتوں اور برآمدی یونٹس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا تمام تر بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے کیونکہ صارفین پہلے ہی 121 اور 118روپے فی لیٹر ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
عبدالرحمان فدا نے کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے برآمدی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوگی، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پیٹرولیم ٹیکس میں کمی کرکے عوام کو فوری ریلیف دے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد اکرام راجپوت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ردعمل دیا اور اس سے عوام اور معیشت پر ’’پیٹرول بم‘‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یک دم لگ بھگ 20 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جو پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اور کاروباری برادری کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل