Saturday, March 07, 2026
 

ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈّے پر حملہ

 



ایرانی صدر کے اب سے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کے واضح بیان کے باوجود خلیجی ممالک پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی اڈّے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے بحرین کے الجفیر بیس سے کارروائی کرتے ہوئے جزیرہ قشم میں قائم پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الجفیر ایئر بیس کو ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ قشم کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 30 دیہات کی پانی کی فراہمی متاثر ہوئی جس پر ایران نے اسے انسانی بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کو قبیح اور مایوس کن جرم” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا خطرناک مثال قائم کرنے کے مترادف ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسری جانب بحرین کے حکام کے مطابق حملے کے بعد دارالحکومت منامہ کے علاقے الجفیر میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ خیال رہے کہ الجفیر کا علاقہ امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے باعث خطے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ اس اڈے کو نشانہ بنانا خلیجی خطے میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی بڑی مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ابھی تک ایرانی حملے میں جانی نقصان یا نقصان کی آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہوسکیں جبکہ امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ آج سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغا گیا جو ایک کھلے میدان میں گرنے کے باعث کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکا تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ میزائل کس طرف سے آیا تھا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل