Loading
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جنگ کیا رخ اختیار کر رہی ہے؟ آج، کل اور پرسوں بلٹ آئندہ کئی روز تک یہ سوال حشر اٹھاتا رہے گا اور لوگ اس سوال کے جواب میں عجز محسوس کرتے رہیں گے یہاں تک کہ متحارب فریقین بھی۔
ایران کا جہاں تک معاملہ ہے، وہ تو متاثرہ فریق ہے جس کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ تین دہائیوں کی پابندیوں اور استعماری طاقتوں کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ادھ موا ہو چکا تھا پھر پہلے ہی ہلے میں رہبر معظم کو شہید کر کے اسے نا قابل تلافی نقصان پہنچا دیا گیا۔
جارحیت کی پہلی لہر میں صرف آیت اللہ خامنہ ای ہی کو شہید نہیں کیا گیا بلکہ پہلی اور دوسری صف کی سیاسی اور فوجی قیادت کا بھی صفایا کر دیا گیا۔
سیاسی قیادت اور ریاست کے ذمے داروں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کے یوں تہہ تیغ ہو جانے کے بعد کسی بھی ریاست کے لیے آسان نہیں ہوتا کہ وہ پورے قد کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی رہے۔
ایران نے یہ کر دکھایا ہے۔ یہ کارنامہ ہے لیکن اسے صرف کارنامہ کہنے سے حق ادا نہیں ہوتا، یہ عظیم کارنامہ ہے۔ ایران کے علاوہ اگر کوئی ملک اتنے بڑے سانحے کو جھیلنے میں کامیاب رہا ہے وہ ایران کا ایک ہمسایہ ملک تھا جسے دنیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔
یہ واقعہ 1988 میں پیش آیا تھا جب ریاست کا سربراہ اور تقریبا ساری فوجی قیادت کا طیارے کے حادثے میں صفایا کر دیا گیا تھا۔ دنیا ایران میں بھی اب اسی اعتماد اور حوصلے کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
ایران کا تجربہ ایک پہلو سے پاکستان سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جنرل ضیا الحق والے واقعے میں پاکستان پر کوئی بیرونی طاقت چڑھ نہیں دوڑی تھی لیکن ایران کے واقعے میں اسرائیل جیسی انسانیت کش اور امریکا جیسی قوت قاہرہ اس پر آتش و آہن کی بارش کر رہی ہے۔
مشرق وسطی میں ہم نے مختلف ملکوں کو امریکا یا اس کی آشیر باد سے اٹھنے والی داخلی بغاوتوں کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے دیکھا ہے لیکن یہ ایران ہے جو امریکا اور اسرائیل دونوں کے سامنے سینہ سپر ہے۔
اندازے ہیں کہ ایران آئندہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک دشمن کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ ایران کی یہی استقامت ہے جس نے اسے عظمت عطا کی ہے اور دشمنوں کو پریشان بھی کیا ہے۔
جارح قوتیں جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی پریشانی سے دوچار کیوں دکھائی دیتی ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران پر اس امید کے ساتھ جنگ مسلط کی گئی تھی کہ بس، دو چار دن کی بات ہے، ایران کا حوصلہ جواب دے جائے گا اور زمام اقتدار شاہ ایران کے بیٹے یا اس جیسے کسی کٹھ پتلی کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔
یہ نہیں ہو سکا۔ حملہ آوروں کی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اس جنگ کا سردست ایک اور بڑا نتیجہ یہ ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
دوسری غیر معمولی بات اسی جنگ کا ایک اور محاذ ہے۔ یہ وہی محاذ ہے جس کی وجہ سے اپنے ہمدردوں کی طرف سے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان وغیرہ پر حملے۔
متاثرہ ملکوں کی طرف سے ان حملوں کی وجہ سے شدید احتجاج کیا گیا۔ ان ملکوں کی طرف سے ایران کو جواب دیا جاتا تو اس پر حیرت نہ ہوتی لیکن تادم تحریر ایسا نہیں ہوا۔ کیا یہ ملک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے؟
ایسا نہیں ہے وہ ایسا کر سکتے تھے۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ بات قابل توجہ ہے۔ عام خیال یہی تھا کہ ایران مشرق وسطی میں تنہا ہو چکا ہے اور مسلمان ملک آزمائش کی اس گھڑی میں اس کے ساتھ نہیں ہیں لیکن اس تاثر کے غلط ثابت ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
ایک طرف ایران نے یہ انکشاف کیا کہ یہ اسرائیل کا فالس فلیگ آپریشن ہے تو دوسری طرف سعودی عرب میں موساد کا ایک جاسوس پکڑا گیا۔
اس طرح ایران کے مؤقف کا گویا ثبوت مل گیا۔ یہ بات صرف اتنی نہیں۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مشکل مرحلے عرب دنیا کا بیشتر حصہ الا ماشا اللہ دو ایک کے تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے۔ یہ مثبت اشارے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کو ایک طرح سے ادھیڑ کر رکھ دیا یے لیکن ایران کے حوصلے اور نظام مملکت کی مضبوطی امید کی کرن پیدا کرتی ہے۔
اس جنگ کا دوسرا ممکنہ نتیجہ امکانی طور پر یہ ہو گا کہ مشرق وسطی کی نوعیت بدل کر رہ جائے گی۔ یہ ہم جانتے ہیں اور نہیں جانتے تو جاننا چاہیے کہ دبئی جیسا عظیم الشان کاروباری اور سیاحتی مرکز کراچی کی لاش پر تعمیر ہوا تھا۔
دوبئی کی دولت اور طاقت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا گیا، کراچی اجڑتا چلا گیا۔ بلوچستان آج بے چین ہے اور گوادر میں رونقیں جڑ نہیں پکڑ رہیں تو اس کی وجہ بھی وہی کراچی والی ہے۔
یہ قدرت کا کیسا انصاف ہے کہ دوبئی خالی ہو رہا ہے، لوگ وہاں سے پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے سرمایہ اور دولت بھی۔ اندازہ یہی ہے کہ دوبئی جس آزمائش سے دوچار ہو گا، مشرق وسطی کے دوسرے ملک اس سے بڑی حد تک محفوظ رہیں گے۔
مشرق وسطی میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی صرف اقتصادی ہی نہیں تزویراتی تبدیلیوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ یہ تبدیلی مشرقِ وسطی سے لے کر جنوبی ایشیا تک مثبت تبدیلی کی ایک اور لہر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جیسے کردوں کو ایران میں داخل کرنے کے منصوبے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ کرد ایران میں کریں گے کیا اور اس واردات کا نتیجہ کیا ہو گا؟اس سوال پر غور کرتے ہوئے افغانستان کی یاد ضرور آنی چاہیے جب امریکا نے دنیا بھر سے "مجاہدین"جمع کیے اور انھیں افغانستان میں پہنچا دیا۔
یہی واقعہ تھا جس کے نتیجے میں نان اسٹیٹ فیکٹر پیدا ہوا۔ اس ضمن مستعمل اصطلاح تو یہی ہے یعنی نان اسٹیٹ ایکٹر لیکن درست اصطلاح نان اسٹیٹ آرمی کی ہونی چاہیے۔ ان نان اسٹیٹ آرمیز نے صرف پاکستان کا ناطقہ ہی بند نہیں کیا بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ جن بوتل سے ایسا نکلا کہ اسے بنانے والے یعنی امریکا نے بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔ اب یہ فتنہ دم توڑ رہا ہے تو امریکا ایک بار پھر وہی غلطی کر رہا ہے۔ ایران کی انقلابی حکومت کی جگہ کسی کٹھ پتلی کو لانے کے لیے پرائیویٹ آرمی کو ایران میں داخل کر رہا ہے۔
اس کا نتیجہ پھر وہی نکلے گا جو افغانستان میں برآمد ہوا تھا۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ افغانستان میں یہ عسکری جتھے مذہب کے نام پر وجود میں آئے تھے جب کہ ایران میں اس کا عنوان لبرلزم ہو گا لیکن نوعیت اور نتائج میں کوئی فرق واقع نہیں ہو گا۔ عسکریت کا جن ایک بار پھر بوتل سے نکلے گا جس کی تباہ کاری کثیر پہلو ہو گی۔
کردوں کو ایران میں لانے کی ایک وجہ تو یہ ہے لیکن اس کی ایک اور وجہ ایران کی بالکانائزئشن یعنی اسے ٹکڑے کرنا بھی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے ایرانیوں اور بلوچوں کو یوں ہی نہیں کہا تھا کہ وہ انقلابی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
یہ پالیسی صرف ایران کو شکست و ریخت سے دوچار نہیں کرے گی بلکہ پورے خطے کو منفی طور پر متاثر کرے گی۔ کرد عسکریت پسندی کی یہ لہر جو ایران سے اٹھے گی، ایک طرف ترکیہ کو متاثر کرے گی تو دوسری طرف ایران کو تباہی سے دوچار کرتے ہوئے پاکستان کا رخ کرے گی جہاں بلوچستان میں پہلے ہی ڈسٹربنس ہے۔
اس عنصر کو پاؤں ٹکانے کی جگہ ملی تو اس سے سی پیک اور گوادر کے ضمن میں ہمارے منصوبے متاثر ہو جائیں گے۔ سی پیک کو 2018 میں پہلی بار بریک لگی تھی، اب یہ دوسری بار ڈسٹرب ہو جائے گی۔
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس آگ کو بھڑکانے میں بھارت بھی پیچھے نہیں رہے گا۔اب سوال یہ ہے کہ ایران کو روندنے کے لیے جن کردوں کو لایا جا رہا ہے، وہ ہیں کون؟ یہ وہی کرد ہیں ، جون جولائی کے ہنگاموں میں جنھیں ایران میں داخل کیا گیا تھا اور انھوں نے بڑے پیمانے پر خون ریزی کی تھی خاص طور پر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکا ایران کو تباہ کرنے کے لیے ایک بار پھر وہی طریقہ اختیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردی اور خون ریزی کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل