Monday, March 09, 2026
 

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کو توانائی بحران کا خدشہ

 



امریکاو اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام کی کمزوری واضح ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر انرجی کی جانب سے اسپاٹ کارگوکی ترسیل روکنے اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بندکرنے کی دھمکی کے باعث توانائی پر انحصارکرنیوالے ممالک کیلیے سنگین خطرات پیداہوگئے ہیں۔ آبنائے ہرمزدنیاکی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے،جو عالمی سمندری تجارت ہونیوالے تیل کا تقریباً 30 فیصد بنتاہے۔ پاکستان کیلیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے،کیونکہ اس کی تقریباً 2 تہائی ایل این جی سپلائی اسی راستے سے آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر اضافے سے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سالانہ ڈیڑھ سے 2ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتاہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ صورتحال میں پاکستان کیلیے مقامی توانائی وسائل کی ترقی قومی ترجیح بن چکی ہے۔ تھرکے کوئلے کے ذخائر کو ملک کاسب سے اہم توانائی اثاثہ قراردیاجارہاہے،جن کے اندازاًذخائر 175 سے 186 ارب ٹن تک بتائے جاتے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی مقامی کوئلہ پیداوار 19.1ملین ٹن تک پہنچ گئی،جو 2سال قبل تقریباً 12 ملین ٹن تھی۔رپورٹس کے مطابق 2026 کے آغاز تک تھرکے کوئلے سے بجلی پیداکرنے کی صلاحیت 3,300 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی بحران کے دوران فرنس آئل یاایل این جی سے پیداہونیوالی بجلی کی قیمت 50 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ تھرکوئلے سے بجلی تقریباً 5 سے 8 روپے فی یونٹ میں پیداکی جاسکتی ہے۔ توانائی ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان کا ری گیسیفائیڈ ایل این جی  پر بڑھتاانحصارماضی میں مہنگے معاہدوں اور شرائط کی وجہ سے مسائل پیداکرتارہاہے۔ موجودہ صورتحال میں سپلائی کی غیر یقینی صورتحال نے پالیسی کے خطرات کومزیدواضح کردیاہے،ماہرین تجویزدیتے ہیں کہ گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس کو ثانوی حیثیت دی جائے اور محدودگیس کو برآمدی صنعتوں کیلیے مختص کیاجائے، تاکہ معیشت کوسہارامل سکے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کوتوانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزکرناہوگا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی طویل ہوگئی تو بلندتیل قیمتیں پاکستان کیلیے مہنگائی،ٹیکس وصولیوں اورصنعتی پیداوار پر شدیددباؤڈال سکتی ہیں، ایسے میں تھرکوئلے سمیت مقامی توانائی ذرائع کوتیزی سے ترقی دینااور متبادل بندرگاہوں اور توانائی منصوبوں کوفعال کرنااہم تقاضابن چکاہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل