Loading
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے والے مجرم کی اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم محمد امین کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
عدالت نے مجرم محمد امین کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کردی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم کو 2 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔جب ملزم کم عمر بچوں کا واحد زندہ والد یا والدہ ہو تو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا جرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ریاست کسی بچے کی مکمل بے سہارگی کی وجہ نہ بنے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریر کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا۔مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے ۔
واضح رہے کہ مجرم محمد امین نے اپریل 2021 کو وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کیا تھا۔ مجرم کا وقوعہ سے ایک روز قبل اپنی اہلیہ اور بچوں سے زرعی اراضی کی فروخت پر جھگڑا ہوا تھا ۔ مجرم نے بیوی پر 21 اور بیٹی پر 8 وار کیے جب کہ دوسری بیٹی کو زخمی کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل