Loading
ایران کے خلاف بڑی جنگ امریکی معیشت پر بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق اس کے اثرات صرف فوجی اخراجات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل کی قیمت، عالمی تجارت اور امریکی بجٹ سب متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکا پہلے ہی دفاع پر سالانہ تقریباً 800–900 ارب ڈالر خرچ کرتا آرہا ہے۔ ایران کے ساتھ بڑی اور طویل مدتی جنگ سے یہ اخراجات کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
عراق جنگ پر امریکا کو اندازاً 2 کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑا تھا اور افغانستان کے وقت مجموعی لاگت بھی 2 کھرب ڈالر سے زائد رہی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس سے بھی مہنگی ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کی فوج اور میزائل طاقت زیادہ مضبوط ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔ اگر جنگ کے دوران ایران اس راستے کو بند رکھتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150–200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
اس کے اثرات امریکا میں مہنگائی، پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی قرض اور بجٹ پر دباؤ شامل ہے جبکہ امریکا پہلے ہی تقریباً 34 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض کا سامنا کر رہا ہے۔
جنگ کے نتیجے میں امریکا کا دفاعی بجٹ بھی بڑھے گا جو قرض مزید بڑھا سکتا ہے۔ حکومت کو ٹیکس بڑھانے یا مزید قرض لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل