Saturday, March 14, 2026
 

رمضان المبارک: آغاز کی رونق سے انجام کی تنہائی تک

 



رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی ہماری بستیوں اور شہروں کی فضا یکسر بدل جاتی ہے اور ہر طرف ایک خاص قسم کا روحانی سکون محسوس ہونے لگتا ہے۔ مسجدوں سے اٹھنے والی تلاوت کی دلنشین صدائیں اور صفوں میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والے فرزندانِ توحید ایک نہایت دلکش اور ایمان افروز منظر پیش کرتے ہیں۔ پہلے عشرے میں مسلمانوں کا جوش و خروش اس قدر دیدنی ہوتا ہے کہ مسجدوں کے صحن بھی نمازیوں کے لیے تنگ پڑ جاتے ہیں۔ تراویح کے وقت جگہ ملنا محال ہو جاتا ہے اور ہر چھوٹا بڑا مسجد کی طرف دوڑتا نظر آتا ہے، جس سے معاشرے میں ایک نئی زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے اور ہم رمضان کے درمیانی ایام میں داخل ہوتے ہیں، تو یہ رونقیں آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتی ہیں اور صفوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ یہ ایک انتہائی تلخ اور افسوسناک حقیقت ہے کہ جیسے جیسے ہم اس مبارک مہینے کے سب سے اہم حصے یعنی آخری عشرے کے قریب پہنچتے ہیں، صفوں میں فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ وہی مسجدیں جو شروع میں بھری ہوئی تھیں، اب خالی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ جوش و جذبہ جو پہلے دن تھا، وہ غائب ہونے لگتا ہے۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ کیا ہماری عبادت صرف چند دنوں کے جوش تک محدود تھی یا اس کے پیچھے کوئی گہرا مقصد بھی تھا۔ رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں تو تقویٰ اور پرہیزگاری کا چرچا ہر زبان پر ہوتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ جب وہ گھڑی آتی ہے جو جہنم سے آزادی کا پروانہ لے کر آتی ہے، تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ آخری عشرہ جو کہ عبادت کی انتہا ہونا چاہیے تھا، وہ ہماری غفلت کی نذر ہو جاتا ہے اور ہماری توجہ مسجدوں سے ہٹ کر بازاروں کی چکا چوند پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ہم اللہ سے لو لگانے کے بجائے برانڈز کی سیلز، کپڑوں کے نت نئے ڈیزائنوں اور جوتوں کی خریداری میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنے خالق سے مانگنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ جہاں ہمیں آخری دس راتوں میں اعتکاف کی صورت میں دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے حضور گڑگڑانا تھا، وہاں ہم درزیوں کی دکانوں کے چکر کاٹنے اور عید کی تیاریوں کے نام پر فضول خرچیوں میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ مسجدیں جو اعتکاف بیٹھنے والوں سے آباد ہونی چاہیے تھیں، وہ اب صرف گنتی کے چند بوڑھوں یا مخصوص افراد کا ٹھکانہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہ وہی آخری عشرہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہؐ کا معمول تھا کہ آپؐ اپنی کمر کس لیتے تھے اور پوری پوری رات جاگ کر اللہ کی بندگی میں گزار دیتے تھے تاکہ امت کو اس کی اہمیت سمجھا سکیں۔ ہمارے لیے یہ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہماری ظاہری عید کی تیاری اس ابدی کامیابی اور مغفرت سے زیادہ اہم ہوگئی ہے جس کا وعدہ اللہ نے ان راتوں میں کیا ہے؟ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں آخری عشرے کو جو عظیم مقام عطا کیا گیا ہے، وہ سال کے کسی اور حصے کو حاصل نہیں ہے۔ لیلۃ القدر جیسی عظیم رات جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، اسی عشرے کی طاق راتوں میں ہی تو چھپی ہوئی ہے تاکہ سچا مومن اسے تلاش کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر رب کو راضی کرسکے۔ اس عشرے میں فرشتے اور روح القدس اللہ کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں اور صبح ہونے تک سلامتی کی دعائیں دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ خود پکار کر مغفرت کا اعلان فرماتا ہے۔ حدیثِ قدسی کا مفہوم ہے کہ روزے دار کے لیے دو بڑی خوشیاں رکھی گئی ہیں؛ ایک افطار کے وقت کی خوشی اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی خوشی۔ آخری عشرہ دراصل اس عظیم ملاقات کی تیاری کا آخری اور سب سے نازک مرحلہ ہوتا ہے، مگر افسوس کہ ہم اس وقت دنیاوی خوشیوں کے پیچھے بھاگ کر اصل انعام سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس شخص کے لیے سخت وعید اور ہلاکت کی دعا کی گئی ہے جس نے رمضان جیسا مبارک مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کروا سکا، جو کہ ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم بازاروں کی دھول، شور شرابے اور خریداری کی ہوس میں اس سنہری موقع کو ہمیشہ کے لیے گنوا تو نہیں رہے؟ عید کا دن دراصل ان لوگوں کے لیے انعام کا دن مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے پورے مہینے اللہ کے احکامات کے مطابق مشقت اٹھائی اور اپنے نفس کو برائیوں سے روکا۔ ایک روایت کے مطابق جب فرشتے اللہ سے پوچھتے ہیں کہ اے پروردگار اس مزدور کا کیا انعام ہے جس نے اپنا کام پوری ایمانداری سے مکمل کیا؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے اس کی پوری مزدوری دی جائے۔ عید اللہ کی طرف سے ایک عظیم ضیافت ہے، لیکن یہ ضیافت صرف ان کے لیے ہے جنہوں نے پورے مہینے اللہ کے مقرر کردہ ضابطوں اور حدود کی پابندی کی۔ لیکن آج کے دور میں ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے عید کو صرف ایک میلے اور جشن کی صورت دے دی ہے جس میں روح غائب ہو چکی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ اور افسوسناک منظر عید کے اگلے ہی دن کی نمازِ فجر کا ہوتا ہے، جہاں مسجد کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہی مسجد جس میں تراویح کے وقت جگہ نہیں ملتی تھی، وہاں اب پہلی صف بھی بمشکل پوری ہوتی نظر آتی ہے اور موذن کی پکار پر لبیک کہنے والے غائب ہو جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے (نعوذ باللہ) ہمارا تعلق اللہ کے ساتھ صرف رمضان کے مہینے تک ہی محدود تھا اور رمضان گزرتے ہی ہم نے اپنے رب سے ناتا توڑ لیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عید کا مطلب نیکیوں سے چھٹی ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ تو نیکیوں پر استقامت اور ثابت قدمی کا ایک نیا عہد کرنے کا دن ہے۔ اگر رمضان گزرنے کے بعد ہمارے اخلاق میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، ہمارے معاملات درست نہیں ہوئے اور ہماری مسجدیں پھر سے ویران ہو گئیں، تو ہمیں سوچنا ہوگا۔ کیا ہم نے اس مہینے سے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا سیکھا تھا یا ہمارا مقصد واقعی تقویٰ اور اللہ کا خوف حاصل کرنا تھا جو ہماری پوری زندگی کو بدل دے؟ نیت کا خلوص اور عمل کی پاکیزگی صرف دکھاوے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے تاکہ ہماری زندگیوں میں برکت آسکے۔ مسجدوں کی رونق کو صرف رمضان کے پہلے چند دنوں تک محدود رکھنا ہماری ایمانی کمزوری کی علامت ہے، ہمیں اس جذبے کو سال کے بارہ مہینے قائم رکھنا چاہیے۔ آخری عشرے کی قیمتی گھڑیوں کو بازاروں کی نذر کرنے کے بجائے لیلۃ القدر کی تلاش اور توبہ و استغفار میں صرف کرنا ہی ایک مومن کی اصل عقلمندی ہے۔ عید کا اصل مقصد نئے اور قیمتی لباس پہن کر اترانا نہیں ہے بلکہ اپنی روح کو گناہوں کی گندگی سے پاک کر کے اللہ کے حضور پیش کرنا ہے۔ نیکی کے راستے پر جمے رہنا اور صراطِ مستقیم پر چلتے رہنا ہی اس بات کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ ہمارا رمضان اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو چکا ہے۔ رمضان دراصل ایک روحانی ٹریننگ کورس ہے جو ہمیں پورے سال کے لیے تیار کرتا ہے، یہ ہماری زندگی کی منزل نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے والا ایک مدرسہ ہے۔ اگر ہم نے اس مقدس مہینے میں نظم و ضبط، صبر اور ہمدردی سیکھ لی ہے، تو اس کا عملی ثبوت عید کے بعد کی زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روح کو ہمیشہ کے لیے مسجدوں کے ساتھ جوڑ لیں اور نمازوں کی پابندی کو اپنا مستقل شعار بنا لیں۔ یاد رکھیں کہ اصل عید اور حقیقی خوشی صرف اسی شخص کے لیے ہے جس کے گناہ معاف ہو گئے اور جو اللہ کے مزید قریب ہو گیا، نہ کہ اس کے لیے جس نے عید کے بعد دوبارہ اپنی پرانی غفلتوں اور گناہوں کی طرف واپسی کا راستہ اختیار کر لیا۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اس ماہِ رمضان کی پوری پوری برکات نصیب فرمائے اور رمضان کے بعد بھی ہمیں اپنی عبادات خشوع و خضوع سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل