Saturday, March 14, 2026
 

​گورنر کی تبدیلی، استعفیٰ دے کر ریکارڈ خراب نہیں کریں گے، خالد مقبول صدیقی

 



متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران شریک تھے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی اسطرح خدمت کی تاریخ ہماری سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایمرجنسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے بعد یہاں کسی نئی جامعہ کی بنیاد نہ رکھنا اس شہر کے مستقبل سے دشمنی ہے، مردم شماری اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2023ء کی مردم شماری میں پہلے 30 لاکھ آبادی کم کی گئی اور پھر ہماری جدوجہد سے 70 لاکھ لوگ بڑھا دیے گئے۔ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں۔ انہوں نے گورنر کی تبدیلی پر وفاق سے علیحدگی یا وزارتیں چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ہماری روایت رہی ہے ہر بار استعفیٰ دیتے ہیں مگر اس بار اپنا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔ خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا یہ پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ ان سفید پوشوں کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے جو اس شہر کا فخر ہیں اور لینے والے ہاتھ نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ ہیں، ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک ہم موجود ہیں اس شہر کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل