Loading
اللہ رب العزت نے اتحاد اور جہاد کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ مسلمان مضبوط رہیں،کوئی ان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے لیکن مسلمانوں نے احکام ربانی کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ، نصاریٰ اور صیہونی قوتوں کے سامنے نہ صرف کہ گھٹنے ٹیکے ہیں بلکہ ان کے رسم و رواج اور طور طریقوں کو اپنا لیا ہے ان کی اس مذموم حرکات کی وجہ سے امت مسلمہ ایک کمزور قوم کے طور پر سامنے آئی ہے۔
امریکا جو اپنے آپ کو سپرپاور قرار دیتا ہے اور وہ تمام خصوصاً اسلامی ملکوں کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے اور اپنی ناپاک خواہش کے تحت وہ ماضی میں ایسا ہی کرتا رہا ہے۔ افغانستان، عراق، شام میں اس نے جو تباہی مچائی اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
ان جنگوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو شام و عراق کے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرنا تھا اور اپنی معاشی طاقت میں اضافہ اور مسلم حکمرانوں کو محکوم بنانا تھا۔
وہ ہمیشہ سے ہی جال ساز رہا ہے ایسا جال بنتا ہے جس میں دنیا کے طالب، عیش و عشرت اور تعیشات زندگی کو ہی اپنا دین و دنیا سمجھنے والے بہت آسانی کے ساتھ کفار کے دوست بنتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو ہلاکت میں بھی ڈالتے ہیں۔
انھیں مسلمانوں کو ایذا رسانی پہنچاتے ہوئے بالکل بھی نہیں آتا ہے، اگر وہ اللہ کے احکام کو دل سے مانتے اور زبان سے اعادہ کرتے تو یقینی بات ہے کہ غزہ کے معصوم بچے، خواتین اور تمام مظلومین کی آواز ضرور سنتے۔
ان کی مدد کرتے مسلمانوں کے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے تو آج اسرائیل ایران پر حملہ ہرگز نہ کرتا۔
اس موقع پر بھی مسلم حکمران خاموش ہیں۔ چپ کا روزہ رکھ لیا ہے، یہ ان کی مصلحت تو ہو سکتی ہے لیکن ایمان کی طاقت، جذبہ جہاد ہرگز نہیں۔
ایران ہمارا ہمسایہ مسلمان ملک ہے۔ ایسے موقعے پر شیعہ، سنی اور دوسرے مسالک کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس بات پر غورکرنا چاہیے کہ یہ ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جرأت و دلیری کو سلام، وہ اسلام کے ایک سچے لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور انھوں نے ثابت کر دیا کہ حقیقتاً وہ مرد مجاہد اور عالم اسلام کے سپہ سالار ہیں۔
چونکہ اسرائیل اور امریکا کے گٹھ جوڑ سے ہونے والا حملہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جیسے ایران پر اسرائیل کے ہونے والے حملے سے امت مسلمہ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ یہ وہ وقت تھا کہ اپنی کوتاہیوں اور اللہ کی نافرمانی کی تلافی کی جاتی اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے اور علی الاعلان جہاد کا اعلان کرتے پھر جو نتیجہ آتا وہ حیران کن اور اسلام کی سربلندی کے طور پر سامنے آتا۔
53 اسلامی ممالک میں سے کچھ تیل کی دولت سے مالا مال، دنیا کی ہر نعمت سے لبریز شان دار اور جری افواج، پھر خوف کس چیز کا؟
لیکن بے حسی اور مفاد پرستی نے مسلمانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ پستی اور ناکامی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ ذلت کے غار میں دھکیل دیے گئے ہیں، آج اپنے اعمال کی وجہ سے پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں اور ان لوگوں کو اپنے سروں پر بٹھا لیا ہے جو اللہ سے کیے گئے وعدوں کی نفی کرتے اور آیات کو جھٹلاتے، پیغمبروں کو قتل کرتے۔
سزائیں ملنے کے باوجود ان صیہونیوں میں تبدیلی ہرگز نہیں آئی، امریکا اور ہندوستان اسرائیلیوں کے ساتھ ہیں، ٹرمپ اور مودی امت مسلمہ کا خون بہانے کے لیے ہر دم سرگرم عمل رہتے ہیں اور نئی نئی سازشوں کا جال بنتے ہیں۔
ٹرمپ نے غزہ میں مسلمانوں کی شہادت، انھیں گھروں سے بے گھر اور بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے اور ان کے قتل عام کے لیے امداد اور اسلحہ فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور عملی طور پر مسلم بہن بھائیوں اور ان کے معصوم بچوں کے لیے مقتل سجایا۔
ان حالات میں بھی جب کہ صدر ٹرمپ غزہ اور ایرانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ چکے ہیں وہ بھی بے قصور شہری۔ آخر امریکا کو پوری دنیا کا مائی باپ بننے اور امن پسند ملکوں کو زیرنگیں کرنے کا شوق کیوں ہے؟
شوق کا کوئی مول نہیں لیکن جائز طریقے سے اور اپنی محنت اور کاوش کی بدولت شوق پورا کیجیے لیکن دوسرے ملکوں کے سربراہان کو محض طاقت کے بل پر اٹھانے اور خون کی ہولی کھیلنے والوں کو نوبل انعام کی سفارش کیوں کر کی جا سکتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر صدر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا، ان کی شہادت پر پاکستان کے اکابر علما نے دکھ کا اظہار کیا اور ایران کے ساتھ یکجہتی و اتفاق پر زور دیا ہے انھی اعلیٰ حضرات اور مفتیان دین میں مفتی تقی عثمانی بھی شامل ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل