Saturday, March 14, 2026
 

دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

 



پاکستان کی افواج افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔ افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کو مسلسل پناہ بھی دیئے ہوئے ہے اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دوحہ معاہدے سے بھی انحراف کر رہی ہے اور نہ صرف دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کو دوسرے ملکوں میں برآمد کرنے میں بھی ملوث ہے۔ اگلے روز بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کوششیں ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 6 ڈرونز مار گرائے ہیں۔ وفاقی وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے راولپنڈی میں افغان طالبان کی زیرسرپرستی فتنہ خارج کی طرف سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکارہ بنا دیا۔ کسی فوجی تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ان ڈرونزکا ملبہ گرنے سے معمولی نقصان ہوا۔ یہ ڈرونز دیسی ساختہ بتائے جاتے ہیں۔ بہرحال افغان طالبان کی ان حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی ماسٹر پراکسی ہیں۔ وہ جو دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز استعمال کیے۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جب کہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔ افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کسی ذمے دار حکومت کا کام نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغانستان کے طالبان ہوش مندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے لیکن افغان طالبان نے ان نازک حالات میں بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کو جاری رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ انھوں نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمے داریوں سے فرار ہورہی ہے اور افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔ صدر نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ انھوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ افغانستان میں چاہے کوئی بھی حکومت ہو، اس کے خمیر میں پاکستان کی مخالفت گندھی ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں افغان طالبان مکمل طور پر بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں۔ بلاشبہ افغانستان کی حکومت کو اپنے غیرملکی تعلقات بنانے میں آزادی حاصل ہے لیکن کسی کی پراکسی یا ایجنٹ بن کر ہمسایہ ممالک میں گڑبڑ پھیلانے کی انھیں کسی طرح بھی اجازت حاصل نہیں ہے۔ یہ شرپسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میںایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم سڑک کنارے نصب کر رکھا تھا، پولیس حکام کے مطابق علاقے شادی خیل بیٹنی میں اس وقت پیش آیا جب پولیس موبائل رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب معمول کے گشت پر تھی۔ اسی دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تھانہ صدر کے ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جن میں انسداد دہشت گردی فورس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جو پولیس کے ساتھ گشت پر تھے۔ ضلع کوہاٹ کے ڈی پی او نے اگلے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 4 ڈرونز کو جام کر کے ناکارہ بنادیا ، اینٹی ڈرون سسٹم اور فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت نہ صرف دشمن کے مضموم ارادے خاک میں ملے بلکہ کسی قسم کا نقصان بھی نہیں ہوا۔ سیکیورٹی حکام گرائے گئے ڈرونز کے ملبے کا تکنیکی جائزہ لے کر اس کی ساخت اور دیگر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے ضلع باجوڑ سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا۔ یہ پولیس اہلکار چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ شہید اہلکار تراویح کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے اپنے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مقامی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا کر بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ ادھر سی ٹی ڈی بنوں ریجن نے ضلع لکی مروت تھانہ گمبیلا کی حدود شاگئی کے علاقے میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 6دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی ٹیم کو شاباش دی۔ خیبرپختونخوا کی پولیس کی کارکردگی روزبروز بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی مقامی سطح پر بروقت انٹیلی جنس کے سسٹم کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مقامی سہولت کاری کا خاتمہ نہیں ہوتا، دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ بہرحال پاک فوج کا آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور دہشت گردوں کے 4 ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا۔ قندھار میں تراوو دہشت گرد کیمپس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔ اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں۔ ادھر ایک اور فضائی حملے میں صوبہ پکتیا میں شیرِنا دہشت گرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک 663افغان طالبان کے کارندوں کو جہنم واصل کیا جاچکا ہے، 249افغان پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، 44پوسٹیں افواج پاکستان کے قبضے میں ہیں جب کہ افغان طالبان کے 224ٹینک مسلح گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان جس انداز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے، اس سے پاکستان کی برتری واضح ہو جاتی ہے تاہم ابھی پاکستان کو بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی دن بہ دن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے جب کہ پاکستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی پاکستانی عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف دوٹوک اور غیرمبہم مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل