Saturday, March 14, 2026
 

ٹرمپ دلدل میں پھنس گئے؟

 



اسرائیلی حکمران سابق امریکی صدورکو ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں مگر کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے جھوٹے بیانیے پرکان نہیں دھرے۔ اب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایران مخالف بیانیے کو نہ صرف مان لیا ہے بلکہ ایران پر حملہ آور بھی ہو چکے ہیں۔ یہ شاید اس لیے کہ وہ شروع سے ہی ایران مخالف رویہ رکھتے تھے،کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی ایٹمی صلاحیت اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جب وہ 2016 میں پہلی دفعہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے انھوں نے اپنے سے پہلے صدر اوباما کے ایران کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کو فوراً ختم کر دیا تھا اور ایران کو پہلے کی طرح امریکی ہٹ لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔ وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر 2020 میں وہ بائیڈن کے مقابلے میں صدارتی الیکشن ہار گئے اور اس طرح وہ ایران کے خلاف اپنی پالیسی پر عمل نہیں کر سکے۔ البتہ انھوں نے اپنی صدارت کے زمانے میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی زبردست مہم چلائی جس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا وہ تو تمام عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرا لیتے مگر انھیں اس کے لیے وقت نہیں ملا کیونکہ ان کی پہلی صدارت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اب جب سے وہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوئے ہیں ایران کی جوہری صلاحیت انھیں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے گو کہ ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ اسے اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے یعنی کہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ وہ ایران کے سخت مخالف ضرور ہیں مگر ابھی تک انھوں نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ امریکی اخبار لکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو وہ واحد اسرائیلی وزیر اعظم ہے جس نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر گزشتہ سال کے آخر میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے مگر اب اس نئے سال کی 28 فروری کو ایران پر بھرپور حملہ کر دیا اور اسرائیل کو اس جنگ میں شامل رکھا ہے۔ امریکا کا ایران پر یہ حملہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ اگر اسرائیل کی جوہری تنصیبات ان کا اصل ٹارگٹ ہیں تو انھیں تو وہ پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی ایٹمی صلاحیت کی آڑ میں وہ ایرانی حکومت کو ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے سابق امریکی صدر جونیئر بش بھی نائن الیون کے وقت عراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے غلط بیانیے کے ساتھ عراق پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ظاہری طور پر ضرور ایک آزاد خیال انسان نظر آتے ہیں مگر اندر سے وہ بھی کٹر مذہبی شخص ہیں جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں وہائٹ ہاؤس میں نظر آئی جب پادریوں کے ایک وفد نے صدر ٹرمپ کے سر اور بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ اس دوران ٹرمپ اپنی کرسی پر سر جھکائے بڑی سعادت مندی سے بیٹھے رہے اور اپنے اوپر جھاڑ پھونک کرواتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایران سے دشمنی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، اگر امریکا کو ایران سے واقعی کوئی خطرہ ہوتا تو امریکی عوام اور حزب اختلاف ضرور ان کا ساتھ دیتے مگر عوام اور پوری ڈیموکریٹ پارٹی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگجویانہ مہم سے بے زار ہیں۔ جس کی مثال حال ہی میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دھمکی دی گئی ہے کہ جب تک وہ ایران پر امریکی حملے کی وجہ نہیں بتاتے وہ سینیٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیں گے۔ اب ٹرمپ ایران پر حملہ آور ہونے کی اصل وجہ بتا نہیں سکتے کیونکہ ایران پر حملے کی وجہ ان کا اپنا مائنڈ سیٹ اور دولت مند یہودیوں سے ان کے کاروباری معاملات ہیں۔ بہرحال ایران پر ٹرمپ کے حملے کو امریکی نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ جنگ امریکا کے مفاد میں نہیں بلکہ سراسر اسرائیلی مفاد میں ہے۔ اس جنگ میں امریکا کا کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس جنگ نے امریکا کو ایکجارح اسٹیٹ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ملک پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پہلے امریکا اگر کسی حکومت کو اپنے لیے ناپسندیدہ سمجھتا تھا تو اسے سی آئی اے کے ذریعے گرا دیا جاتا تھا مگر اب تو ٹرمپ بحیثیت امریکی صدر اپنے ناپسندیدہ ملک کی حکومت کو گرانے کے لیے خود کارروائی کر رہے ہیں۔ وینزویلا کے بعد اب ایران پر ان کے حملے نے پوری دنیا میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جس سے امریکا کے طاقتور دشمنوں کی ہمت افزائی ہو رہی ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق طاقت کے زور پر اپنے مفادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی نئی صدارت کا حلف اٹھاتے ہی دھونس اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ وہ کسی ملک پر پابندیاں لگانے لگے تو کسی پر قبضہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ گویا وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے اور اقوام متحدہ کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رہی، ان کی اس انتہا پسندانہ پالیسی نے صرف دنیا کو ہی خوفزدہ نہیں کیا بلکہ امریکی عوام میں بھی ان کی مقبولیت میں کمی آنے لگی۔ اب ایک تجزیے کے مطابق امریکی عوام میں ان کی مقبولیت 30 سے 40 فی صد ہی باقی رہ گئی ہے اور اگر یہی حال رہا تو آگے چل کر ان کی حکومت خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایران پر حملہ کرتے وقت وہ بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ایران پر ان کے حملے کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج کا ہونا لازمی ہے کیونکہ وہاں کے عوام حکومت کے سخت خلاف ہیں اور وہ حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایرانی حکومت اب بھی قائم و دائم ہے اور انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔ ٹرمپ دراصل اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کا شکار ہوگئے ہیں، انھوں نے ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کردوں کو بھی ورغلایا تھا مگر انھوں نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ گوکہ امریکا نے اسرائیل کی محبت میں ایران پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود ایرانی حکومت کا وجود قائم ہے۔ اب ٹرمپ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور وہ اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب ایران انھیں جنگ سے نکلنے نہیں دے رہا ہے کیونکہ وہ برابر اب بھی امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر بھیانک حملے کر رہا ہے۔ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ خود ہی تباہی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اب اس سے نجات کے لیے اپنے پرانے دشمن روس سے مدد مانگ رہے ہیں جس سے یقینا ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل