Loading
ایران جنگ کا خاتمہ کس طرح سے ہوتا ہے اورکب ہوتا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ پر لیکن کیا امریکا دنیا کی وہ عظیم طاقت ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بنی تھی؟ روس کی مدد کے بغیرکیا ایران یہ جنگ لڑ سکتا تھا؟ ماضی کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔
یہ نہیں معلوم کہ یہ مثال آج کی صورتحال سے مطابقت رکھتی بھی ہے کہ نہیں لیکن ایک حقیقت ضرور ہے کہ جب سوویت یونین، جنگ کے لیے افغانستان میں داخل ہوا، تو امریکا نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے افغانستان کو میدان جنگ اور پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر استعمال کیا۔
جب کہ افغانستان کی ظاہرشاہی اشرافیہ ، افغان مذہبی جماعتوں کو اس جنگ میں ایندھن استعمال کیاجب کہ افغانستان کا ترقی پسند طبقہ سوویت یونین کا حامی تھا اور حکومت پر قابض تھا، وہ بھی اس جنگ کا ایندھن بنا۔
ادھر اسلامی ممالک میں سرگرم مجاہدین بھی اس جنگ کا ایندھن بننے کے لیے افغانستان میں پہنچائے گئے۔ یہی کام ایک لحاظ سے آج روس کر رہا ہے۔
یقینا آج جنگ کی صورتحال انتہائی مختلف ہے، یہ روس کے ریڈار سسٹم ہی تھے جو ایران کو ان کے ہدف اور ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہے تھے اور ٹھیک ان ٹھکانوں کو ایران نے اپنا نشانہ بنایا۔
ایران نے نہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ بحرین، اردن اور اسرائیل میں نصب کردہ اسرائیل اور امریکی ریڈار سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا۔
نوبت یہ آئی کہ امریکا کو اپنے دو بڑے جنگی بیڑے دور لے جانے پڑے کہ کہیں ان کو بھی کوئی نقصان پہنچے۔ مغرب کا میڈیا جو ایک آزاد میڈیا، آزادی رائے اور حقیقی خبروں کا دعویدار ہے وہ اس دفعہ اسرائیل کی شکست اور پسپائی کی واضح تصویر دنیا کو نہیں دکھا سکا اور نہ ہی سوشل میڈیا یا کسی با وثوق ذرائع سے کوئی خبر مل سکی۔
اس جنگ کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ایسا کہہ سکتے ہیں ختم ہونے کی بجائے یہ دراصل دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
عرب ممالک اس بات پر اب ضرور غورکریں گے کہ ان کے ملک میں موجود امریکی دفاعی اڈے ان کی حفاظت نہیں کرسکے۔ سوال یہ بھی اہم ہے کہ امریکا نے عرب ریاستوں کو اپنا مضبوط فوجی نظام نہیں بنانے دیا، وہ اس لیے کہ عرب ریاستیں دفاعی صورتحال میں ہمیشہ امریکا کی محتاج رہیں۔
سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیا عرب ریاستیں فطری طور پر آپس میںجڑی ہوئی ہیں؟ اگر ان کی زبان، ثقافت، تہذیب، جغرافیہ اور تاریخ ایک ہے تو عرب ریاستیں درجنوں میں کیوں، ایک کیوں نہیں؟
کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا چاہتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی کہ تمام عرب ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور ایک اسلامی اتحاد قائم کیا جائے ۔
اس کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو صاحب بھی مارے گئے اور شاہ فیصل بھی۔ البتہ مشرقِ وسطیٰ نے اپنی تقدیر ضرور بدل ڈالی۔ متحدہ عرب امارات کو متحد کرنے والے تھے، ذوالفقار علی بھٹو! سترکی دہائی کا پسماندہ متحدہ عرب امارات آج کہاں پہنچ چکا ہے۔
عرب ریاستوں کا طرزِ حکومت جمہوری اقدار پر نہیں ہے۔2011 میں کچھ عرب ریاستوں میں عرب بہار Spring Revolution کی لہر آئی تھی، جس نے تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔
مصر میں تحریر اسکوائر نے وہاں کی آمریت کی بنیادیں ہلادیں۔ جب وہاں کی مذہبی جماعت نے بائیں بازوکو اقتدار میں شراکت نہیں دی تو اس ٹکراؤ کا فائدہ ایک فوجی آمر نے اٹھایا۔ ایران میں بھی شہنشاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وہاں کے ترقی پسندوں کی آواز کو دبا دیا گیا۔
ایران جنگ کا خاتمہ بھی اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔ امریکا، ایران میں رجیم تو نہیں بدل سکا، لیکن موجودہ رجیم کا رہنا بھی اب اتنا آسان نہیں رہا۔
ایران کو اپنی معیشت مستحکم کرنا ہوگی۔ ان کے خلاف داخلی طور پر ہر اٹھنے والی آ وازکو دبایا نہیں جاسکتا۔ اب ایران کے اندر ریفارمزکا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
ایران جنگ کے بعد عرب ریاستوں کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ محض امریکا کے بھروسے نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لیے صحیح اور بہتر قدم اٹھایا اور پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔ پاکستان کا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے۔
پاکستان کا اہم مسئلہ اس کی کمزور معیشت ہے۔ اس معیشت کا مضبوط ہونا، پاکستان کی سالمیت کے لیے اشد ضروری ہے۔ ایران جنگ سے دو دن پہلے مودی صاحب اسرائیل پہنچ گئے اور ہماری تشویش میں مزید اضافہ ہوا، جب انھوں نے افغانستان کو اپنا اتحادی قرار دیا۔
ہم نے بلا تاخیر، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے اڈوں کے خاتمے کے ساتھ کارروائی شروع کردیاکیونکہ یہ سوال تھا، ملک کی ساخت اور سالمیت کا کیونکہ افغانستان کی طالبان رجیم کھل کر پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل چکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے جنگ کا جو نقشہ کھینچا ہوا تھا کہ اگر ایران پر رضا شاہ پہلوی کی حکومت بنا دی جاتی تو ایران کو تین حصوں میں بانٹ دیا جاتا اور ہوتا کیا؟ یقینا آبنائے ہرمز پر اسرائیل اور امریکا کا قبضہ ہو جاتا۔ چین، ہندوستان، پاکستان سے لے کر جاپان اور پھر تمام عرب ریاستوں کی تیل کی رسد اور ایران کے تیل پر اسرائیل اور امریکا کی اجارہ داری قائم ہو جاتی۔
اس کے دور رس اثرات تمام ممالک کی آزاد خارجہ پالیسی پر ہوتے۔ کوئی ملک اپنی آزاد خارجہ پالیسی مرتب نہیں دے پاتا۔کوئی ملک امریکا کی مخالفت نہیں کرسکتا تھا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے امریکا کا مخالف نہیں بن سکتا تھا۔
دوسری طرف ایران سے آزاد ہوکرد علاقہ ترکیہ کے لیے مسائل کا باعث بنتا۔ آزاد سیستان، پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتا اور ایسے حالات میں ہندوستان ہمیں نقصان پہنچاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، مگر یہ خطرات اب بھی باقی ہیں۔
ہم ان حالات میں زیادہ بول بھی نہیں سکتے کیونکہ اپنی کمزور معیشت کی وجہ سے کئی مصلحتوں کا شکار ہے۔
چین اب BRICS کی مہم کو تیزکردے گا جس میں مشکلات پیدا کی جا رہی تھیں۔BRICS کے وجود سے امریکا خائف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ BRICS کی تشکیل سے امریکی ڈالرکے لیے نئے چیلینجز پیدا ہو جائیں گے۔
BRICS کی تشکیل سے دو بڑے مالیاتی ادارے وجود میں آئیں گے جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرزکے ہوںگے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس صورتحال کو روکنے کے لیے ہی امریکا نے ایران جنگ کا آغاز کیا لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ امریکا کے حق میں نہیں آیا۔
اب دنیا آہستہ آہستہ Multi Polar System میں تبدیل ہو رہی ہے۔1971 اور1965 کی جنگوں میں جب پاکستان ہندوستان سے لڑ رہا تھا تو چین کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی نہیں تھی اور اس وقت ہم امریکا کے اتحادی بھی تھے۔
مئی 2025 میں چین کی جنگی ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوئی۔ اسی طرح ایران نے بھی روس اور چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیا ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل