Saturday, March 14, 2026
 

ماں

 



ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن یہ لفظ اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بھی انسان سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ماں ہی کو مثال بناتا ہے۔ ماں مجسم محبت اور تحفظ ہے۔ میری والدہ محترمہ 29 رمضان المبارک 2015 (جمعتہ الواع) کو تہجد کے وقت تقریباً پونے دوبجے صبح اس جہاں فانی میںایک سو ایک سال، چھ ماہ اور سولہ دن گزار کر ابدی زندگی کے لیے روانہ ہوئیں۔ رب ذوالجلال و اکرام ان کی مغفرت فرمائے اور درجات کی بلندی سے نوازے۔ ( آمین) ماں سے جدائی ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کا نعم البدل دنیا بھر میں کوئی نہیں۔ ماں کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ماں اٹھارہ، بیس سال کی بھی ہوتی ہے اور سو سال کی بھی۔ اولاد کی جنت ماں کے قدموں میں قرار دی گئی ہے۔ ایک صاحب نظربتا رہے تھے کہ ’’حسد کی آگ کو کوئی وظیفہ نہیں کاٹ سکتا حتیٰ کہ مرشد کی دعائیں بھی حسد کا علاج نہیں لیکن ماں کی دعا میں یہ تاثیر ہے کہ وہ حسد کی آگ کو بھی بجھا سکتی ہے۔‘‘ اولاد کے لیے ماں کے مقام اور احترام کے حوالے سے محدثین نے بیان کیا ہے کہ نبی پاکؐ نے فرمایا میری ماں چھ سال کی عمر میںرحلت فرما گئیں۔ اگروہ زندہ ہوتیں اور مجھے کسی کام سے آواز دے کر بلاتیں اور میں نماز کی ادائیگی کر رہا ہوتا تو نماز توڑ کر ان کی بات سنتا۔ پھر آ کر دوبارہ نما زکی نیت کرتا۔ نبی پاکؐ کا یہ فرمان ماں کے درجے اور اس ہستی کے احترام کے لیے ابدی پیغا م ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔ آپ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ آپ نے دیکھا کہ اس قصاب نے جب اپنا کاروبار ختم کرلیا تو نرم گوشت کے ایک ٹکرے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے بطور مہمان اس کے گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا اور روٹی کے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔ قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک ایک لقمہ کر کے اسے کھانا کھلایا اور اس کا منہ صا ف کیا۔ بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں ایسا کیا کہا کہ جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا یہ بوڑھی عورت میری ماں ہے۔ گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں۔ یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں۔ بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ، تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔ ماں خود بھوکا رہ کر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی ہے۔ سرد راتوں میں جب اس کا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے، وہ ساری رات گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔ بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اس کی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہو جاتی ہے۔ والدین جب بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو اولاد کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ وہ لوگ خوش نصیب کہلاتے ہیں جنھیں والدین کی خدمت کا موقع ملے۔ بڑھاپے میں دل وجان سے ماں باپ کی خدمت کرنے والے لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے میں پاؤ تو ان کو اُف تک نہ کہو۔ ان کا اس طرح خیال رکھو جس طرح انھوں نے بچپن میںتمہارا خیال رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو رشتے بنائے ہیں ان میں سب سے عظیم رشتہ ماں ہی کا ہے۔ رشتے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو ہمیں پیدائش سے ہی وراثت میں ملتے ہیں۔ پیدائشی رشتے خون کے رشتے ہوتے ہیں، ماں، باپ، بہن، بھائی یہ رشتے بنے بنائے ہوتے ہیں۔ یہ رشتے نہ جوڑنے سے جڑتے ہیں اور نہ توڑنے سے ٹوٹتے ہیں۔ یہ دائمی رشتے ہیں۔ دوسرے رشتے ہم خود بناتے ہیںجن میں ہمارے دوست،ہمارے کلاس فیلو آفس فیلو، کاروباری تعلقات، سیاسی رفقاء، مخالف، مداح، اساتذہ، ہمارے شاگرد۔ اس طرح ہماری زندگی ان رشتوں میں بٹی ہوتی ہے۔ ہم باراتوں اور جنازوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور ایک دن خود بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ان رشتوں کا احترام کریں اور خاص طور پر ماں کے رشتے کا کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جب وہ چلنے اور بولنے کی سکت کھو دیں تو یہ ایام اولاد کے لیے انتہائی قیمتی ہوتے ہیں۔ ان ایام میں ان کی خدمت دین اور دنیا، دونوں جہانوں میں اولاد کے لیے انعام و اکرام کو بڑھا دیتا ہے۔ ان ایام میں ماں، باپ کے حضور حاضری بھی آپ کے مسائل اور مشکلات کو کم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی خدمت کے لائق رکھے۔ (آمین)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل