Loading
تاریخ کے مقتل میں جب بھی کسی بڑی علامت کا خون گرتا ہے، تو وہ صرف زمین کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ وقت کی لکیروں کو ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں سوال صرف ایک ریاست کے سربراہ یا ایک مسلک کے پیشوا کا نہیں ہے، بلکہ اس مابعد الطبیعیاتی ڈھانچے کا ہے جسے مادی طاقتیں اپنی عقلی حدوں میں ماپنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تزویراتی منصوبہ سازوں نے شاید نقشوں پر سرخ لکیریں کھینچتے ہوئے یہ سمجھا ہوگا کہ وہ ایک بوڑھے فقیہ کو ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ گورکھ دھندے کو سلجھا دیں گے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس ایک فیصلے نے عالمی امن کی رہی سہی بنیادیں بھی ہلا دی ہیں۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو کمزورکرنے کا نسخہ نہیں، بلکہ اس نظام کو وہ ابدی ایندھن فراہم کرنے کا عمل ہے جس کی اسے بقا کے لیے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آپ اس تہذیب کو کبھی شکست نہیں دے سکتے جس نے مرنے کی آمادگی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے دی ہو۔ جب شہادت ایک نظریہ بن جائے اور موت ایک تزویراتی انتخاب، تو وہاں میزائلوں کی گھن گرج اور ٹیکنالوجی کی برتری محض ایک شور بن کر رہ جاتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای محض ایک سیاسی لیڈر نہیں تھے، وہ ’ولی فقیہ‘ تھے۔ ایک ایسا منصب جو کروڑوں انسانوں کے لیے حقیقت کی وہ ساخت متعین کرتا ہے جس کے بغیر ان کا وجود ادھورا ہے۔ ایران کی 40 سے 50 فیصد آبادی کے لیے ولایتِ فقیہ کوئی پارلیمانی بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ایک روحانی ستون ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ کسی روحانی پیشوا کو قتل کرتے ہیں، تو آپ اس فرقے اور مسلک کا خاتمہ نہیں کرتے بلکہ ایک ’شہید‘ کو جنم دیتے ہیں جو مرنے کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس شاید یہ بھول گئے کہ شیعہ سیاسی فکر کی جڑیں کربلا کے اس لق و دق صحرا میں پیوست ہیں جہاں شکست، فتح کا استعارہ بن گئی تھی۔ وہاں لہو بہنا فنا نہیں، بلکہ بقا کی ضمانت ہے۔ اس قتل کے بعد اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوچکی ہے،کیونکہ اب مقابلہ ایک ریاست سے نہیں بلکہ ایک ایسے ’’ زخمی تقدس‘‘ سے ہے جو انتقام کی زبان میں بات کرے گا۔
اعداد و شمارکی بے رحم زبان میں بات کریں تو ایران کا دفاعی بجٹ جو سالانہ تقریباً 15 سے 20 ارب ڈالرکے درمیان رہتا ہے، اب اس کا ایک بڑا حصہ براہِ راست غیر روایتی جنگ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ تہران کے پاس موجود 3,000 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ اب صرف ایک دفاعی ڈھال نہیں رہا، بلکہ اس غصے کا اظہار بن چکا ہے جو تہران کی گلیوں میں ایک چادر پوش خاتون کی آنکھوں میں لرز رہا ہے۔ عالمی معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا 21 فی صد گزرتا ہے، اب ایک ایسی بارود کی ڈھیر بن چکی ہے جہاں ایک چنگاری عالمی خام تیل کی قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہ صرف معاشی اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ اس بے چینی کا گراف ہے جو اب ہر سرحد پر محسوس کی جائے گی۔ لبنان سے یمن تک اور عراق سے شام تک، ایران کے حامی گروہوں کی افرادی قوت جو کم و بیش 5 لاکھ مسلح جنگجوؤں پر مشتمل ہے، اب ایک ایسی ’’ مرکز گریز‘‘ طاقت بن جائے گی جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ جب مرکزکا سرکٹتا ہے، تو جسم کے ہر حصے میں اپنی اپنی جنگ شروع کرنے کی وحشت جاگ اٹھتی ہے۔
سماجی سطح پر اس قتل نے ایران کے اندر موجود نظریاتی خلیج کو پاٹ دیا ہے۔ وہ نوجوان جو شاید تہران کی سڑکوں پر اصلاحات کے لیے آواز اٹھاتے تھے، اب اس بیرونی وار کے بعد اپنی قومی شناخت کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ بیرونی دشمن کا بڑا وار اندرونی اختلافات کو مٹا کر ایک آہنی دیوارکھڑی کردیتا ہے۔ اس منظرکو سمجھنے کے لیے کسی ماہرِ سیاسیات کی ضرورت نہیں، بس اس ایک تصویرکو دیکھنا کافی ہے جس میں ایک بوڑھی عورت، جس کے چہرے کی جھریوں میں صدیوں کا دکھ بسا ہے، خامنہ ای کی تصویر سینے سے لگائے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر جو کیفیت ہے، وہ اداکاری نہیں، وہ کسی ریاست کا حکم نامہ نہیں، وہ اس کی روح کی پامالی کا نوحہ ہے۔ یہ وہ چہرہ ہے جسے اس خطے کی مٹی سے وابستہ ہر شخص پہچانتا ہے۔ یہ ’’ مظلومیت‘‘ کی وہ صنف ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایٹم بم سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔ جب غم غصے میں بدلتا ہے اور غصہ تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، تو پھر ڈپلومیسی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔
مغرب نے ہمیشہ مشرق کو ایک مشین کی طرح سمجھا ہے جس کا کوئی پرزہ نکال دینے سے وہ رک جائے گی، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ ایک نامیاتی وجود ہے جو اپنے زخموں سے توانائی کشید کرتا ہے۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو مفلوج نہیں کرے گا، بلکہ اسے وہ ’’ زندہ شہید‘‘ فراہم کر دے گا جس کی داستانیں اگلی کئی دہائیوں تک مزاحمت کے استعارے بن کر گونجتی رہیں گی۔ امریکی منصوبہ سازوں نے نظام کا سرکاٹنے کی کوشش کی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ کچھ سر کٹنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں پھیل جاتے ہیں اور ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بن جاتے ہیں۔ اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
الوداعی جملہ اس گہرے صدمے اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا نچوڑ ہے جس کا ادراک مادی آنکھ نہیں کر سکتی۔ وہ جو زندگی کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، وہ تو شاید مٹ جائیں، لیکن جو موت کو زندگی کا دیباچہ بنا لیں، انھیں کون فنا کر سکے گا؟ جب خونِ تمنا خاک میں ملتا ہے، تو وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ اس مٹی کی تاثیر بن جاتا ہے جو غاصبوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال لیتی ہے۔ اب انتقام صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی دعا بن چکا ہے جو ہر سجدے میں لہو بن کر ٹپک رہی ہے اور یاد رکھنا کہ جب زمین سے آسمان تک صرف لہوکی پکار ہو، تو تخت گرائے جاتے ہیں اور تاج اچھالے جاتے ہیں۔
آسمانِ تہران پر سسکتی ہوئی ہوا اب وہ قصیدہ پڑھے گی جو لفظوں میں نہیں، سسکیوں میں لکھا گیا ہے، کیونکہ جب کسی کے قبلہِ عقیدت کو لہو لہان کیا جاتا ہے، تو پھرکائنات کی ہر شے مرثیہ خواں بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے تباہی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس کی کوئی واپسی نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل