Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کیا ہے کہ بیشتر نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا اور اب ہمیں بھی کسی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی تھی تاکہ خلیج میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ مل سکے۔
انھوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر اُس وقت جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
امریکی صدر شکوہ کیا کہ بیشتر نیٹو اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن ضرورت کے وقت وہی ممالک امریکا کا ساتھ نہیں دیتے۔ یہ اتحاد اکثر یک طرفہ ثابت ہوتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ فوجی کامیابیوں کے بعد امریکا کو بھی اب نیٹو یا دیگر اتحادیوں کی مدد کی ضرورت نہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہے اور اسے کسی ملک کی فوجی مدد درکار نہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں امریکی افواج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ تقریباً ختم ہوچکی ہے، فضائیہ کو بھی بھاری نقصان پہنچا، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ ہو چکے ہیں اور کئی اعلیٰ رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل