Wednesday, March 18, 2026
 

علی لاریجانی کے بعد …؟

 



ایران کی نیشنل سیکیورٹی کے چیف ایڈوائزر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد کیا ہوگا۔ یہ سوال اب سب کے ذہن میں ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی منظر عام پر نہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ جب سے وہ سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں، ان کا نہ تو کوئی آڈیو اور نہ ہی کوئی ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے۔ جس سے ان کی صحت اور زندگی دونوں کی تصدیق ہو سکے۔ وہ زندہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ لیکن کتنے زخمی ہیں۔ کیا وہ ہوش میں ہیں۔ کیا وہ اس وقت ایران کی کمان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کو کتنے زخم آئے ہیں۔ وہ بول سکتے ہیں۔ وہ چل سکتے ہیں۔ سب سوال اپنی جگہ موجود ہیں۔ اسی لیے سوشل میڈیا میں ان کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چند دن پہلے یہ افواہ تھی کہ وہ ایران میں نہیں ہیں بلکہ علاج کے لیے انھیں ماسکو شفٹ کر دیا گیا ہے۔لیکن یہ سب جھوٹ تھا۔ یہ اسرائیلی پراپیگنڈا تھا تاکہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ان کی کوئی تصویر کوئی ویڈیو سامنے آئے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں یہ تو طے ہے۔ اس کی تو ایرانی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہوتے ہوئے ایران کون چلا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کس کے کنٹرول میں ہے۔ اس لیے یہ کہا بلکہ یہ مانا جا رہا تھا کہ علی لاریجانی ساری جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ وہی مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی میں کمان میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے بھی ایک امیدوار تھے۔ انھیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اپنے وارث کے طور پر نامزد کیا ہوا تھا۔ لیکن ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تا ہم وہ سب سے اہم تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علی خامنہ ای کے بعد اسرائیل نے کسی سب سے اہم لیڈر کو نشانہ بنایا ہے تو وہ علی لاریجانی ہیں۔ وہی سب سے اہم تھے۔ سب کا ماننا ہے کہ وہی کمان میں تھے۔ گزشتہ دنوں امریکا نے ایران کی اہم شخصیت کی معلومات کے لیے بڑی انعامی رقوم کا بھی اعلان کیا۔ اس میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ اس لیے کیا کسی نے ان کی مخبری کر دی ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم رہے گا۔ سب سے پہلے ان کی شہادت کی خبر اسرائیل نے دی۔ اس کا مطلب اسرائیل کے لوگ وہاں موجود ہیں جنھوں نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر کے اسرائیل کو آگاہ کیا۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر نے اعلان کیا اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تصاویر بھی ہیں۔ کسی نے تو موقع سے تصاویر اسرائیل اور امریکا کو دی تھیں۔ اس لیے دونوں واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موساد کا نیٹ ورک ابھی تک ایران میں بہت مضبوط ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی اپنی بیٹی کے گھر جا رہے تھے تب انھیں نشانہ بنایا گیا۔ آخر کسی نے تو ان کی مخبری کی کہ وہ محفوظ بنکر سے باہر آئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر بہت سخت حملہ کیا ہے۔ اسرائیل میں سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی ریلوے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے اشارہ دیتے ہیں کہ علی لاریجانی کے بعد بھی ایران میں کمان کا ایک نظام موجود ہے۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نظام حکومت اور اس کی جنگی مشین کام کرتی رہی ۔ کوئی قیادت کا خلاء نظرنہیں آیا، جنگ جاری رہی، ایران کی مزاحمت جاری رہی۔ ایسے ہی علی لاریجانی کے بعد بھی ایران کی امریکا اور اسرائیل کے لیے مزاحمت جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آئی ہے۔ یہ بھی کمان کا نیا نظام ہے۔ جہاں کمانڈر کے جانے کے بعد بھی جنگ کی کمان جاری رہتی ہے۔ کمان کیسے بدلتی ہے، کون اصل میں کمان میں ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ کون متبادل کا فیصلہ کرتا ہے۔ کون نیا کمانڈر منتخب کرتا ہے۔ کون نئی ہدایات دیتا ہے۔ یہ سب ابھی تک نا قابل فہم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جس قدر شدید بمباری کی گئی ہے اس کی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن مزاحمت جاری ہے۔ ڈرون مارے جا رہے ہیں۔ میزائیل مارے جارہے ہیں۔ ایران نے اپنے نظام جنگ سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت یہ سوال موجود ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا بھی کچھ علم نہیں۔ علی لاریجانی شہید ہو گئے ہیں کون کمان میں ہے۔ لیکن کوئی تو ہے جو سب کچھ چلا رہا ہے۔ علی لاریجانی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ آخری موقع تک امام علی خامنہ ای کو محفوظ بنکر میں جانے کے لیے مناتے رہے۔ لیکن امام خامنہ ای نہیں مانے۔سوال یہ بھی ہے کہ علی لاریجانی محفوظ بنکر سے خود کیوں باہر آئے۔ انھوں نے کیوں اپنی حفاظت نہیں کی۔ اگر امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ علی لاریجانی کے بعد ایرانی فوج اور بالخصوص پاسداران انقلاب کمزور ہو جائیں گے۔ ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ کوئی کمان کرنے والا نہیں ہوگا تو ایسا نہیں ہوا۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا علی لاریجانی کے بعد بھی نہیں ہوا ہے۔ نظام جنگ اور نظام حکومت بھی چل رہا ہے۔ ایران میں ابھی تک سب ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے۔ دنیا حیران ہے۔ علی لاریجانی جنگ کے دوران عوامی مقامات پر نظر آتے رہے ہیں۔ یوم القدس کی ریلی میں موجود تھے۔ ان کی تصویربہت وائرل ہوئی۔ بلکہ یہ خبریں بھی آئیں کہ انھوں نے یوم القدس کی ریلی میں جو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس جیکٹ کی ایران میں بہت مانگ بڑھ گئی۔ نوجوان وہ جیکٹ پہننے لگ گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت نہ کریں ورنہ انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ جس ریلی میں علی لاریجانی شریک تھے اس کو نشانہ بھی بنایا گیا تھا لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں موت کا خوف نہیں تھا۔ انھوں نے چند دن پہلے ٹوئٹ بھی کیا تھا کہ موت انھیں خوشی دے گی، وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ علی لاریجانی کی شہادت امام علی خامنہ ای کے بعد ایران کا بہت بڑا نقصان ہے۔ ایران کو اپنی قیادت کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جب قیادت اس طرح نشانہ بنتی ہے تو اس کا بہرحال اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ایران کو اپنی قیادت کو سنبھالنا ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ اب علی لاریجانی کے بعد کون سامنے آتا ہے۔ اب نئے سپریم لیڈر نے ان کی جگہ کسی کو نامزد کرنا ہے۔ وہ کون ہے یہ بھی اہم ہوگا۔ اس سے نئے سپریم لیڈر کی ٹیم کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ وہ کس کو آگے لاتے ہیں اور اس کی کیا سوچ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل