Wednesday, March 18, 2026
 

حزب اختلاف کا ایجنڈا

 



گزشتہ سال ہونے والے انتخابات جمہوریت کی تاریخ کے منفرد انتخابات تھے۔ 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 2024کے انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، مگر تحریک انصاف کے حامی اراکین کی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی، یوں عمر ایوب خان قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف قرار پائے۔ اس اسمبلی میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی بھی منتخب ہوئے جن کا حزب اختلاف میں رہنے کا طویل تجربہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصرکی کوششوں سے مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف میں بظاہر ہم آہنگی پیدا ہوئی مگر بہت سے زندہ حقائق کی بناء پر تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بنانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئین میں کی جانے والی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن سے متفق نہ ہوسکی۔ عمر ایوب خان کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے مہم جوئی کی مگر حزب اختلاف نے اپنی تحریکوں میں عوام کے مسائل کو اہمیت نہ دی۔ یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی بناء پر متوقع نتائج نہ دے سکیں، مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ان تحریکوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی۔ اسلام آباد میں نومبر 2024میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں زبرست احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طور پر 6 افراد جاں بحق ہوئے مگر تحریک انصاف میں دو سال قبل شامل ہونے والے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ٹی وی چینلز پر یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ اس تصادم میں سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے مگر حقائق لطیف کھوسہ کے دعوے کی تردید کررہے تھے۔ اس بناء پر رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 7, 7 سال قید کی سزا سنائیں، یوں یہ دونوں رہنما اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے اپنی سزا کے خلاف قانونی جنگ میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ دونوں رہنما خیبر پختون خوا میں اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔ شاید دونوں رہنماؤں نے نجات کا یہ راستہ بہتر جانا۔ حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو حزب اختلاف کی سربراہی کے لیے نامزد کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرنے کے اعلان میں چھ ماہ لگا دیے گئے۔ اس پارلیمنٹ کے بننے کے بعد پہلی دفعہ حزب اختلاف مکمل ہوئی۔ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ سے مذاکرات ہوئے۔ بعض باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت تحریک انصاف کے بانی کو ریلیف دینے پر تیار ہو جائے بعد ازاں صدر زرداری اچانک رحیم یار خان میں کارکنوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف زوردار زبانی بمباری کی۔ شاید اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام معاملات رک گئے۔ گزشتہ مہینے متحدہ حزب اختلاف کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی روداد کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں ایک تجویز اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی تھی۔ اجلاس نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی اور ملک کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتحال، مہنگائی میں مسلسل اضافہ،کارخانوں سے مزدوروں کی برطرفی، کارخانوں میں لے آف اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کسی طرح کے احتجاج کا فیصلہ نہیں ہوا۔ حزب اختلاف نے اب تک جتنی تحریکیں چلائیں وہ محض ایک شخص کی رہائی کے مطالبے کو منوانے تک محدود رہی ہیں۔ ان تحریکوں کے لیے صرف کارکنوں کی ایک مخصوص تعداد ہی متحرک ہوئی جس کی بناء پر تحریک انصاف کی قیادت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ ملک کے معروضی حقائق کے جائزے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی مہم جوئی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے ایک خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر تحریک چلانے کے حق میں نہیں تھے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے دیگر طریقوں کو آزمائے۔ یہ وقت ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے کو توسیع دے۔  اس وقت سب سے زیادہ بے چینی بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی اکثریت فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی شکایات حقیقت پر مبنی ہیں، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے میں بلوچستان کو سرفہرست رکھے۔ اس وقت نچلے متوسط طبقے کے حالاتِ کار انتہائی خراب ہیں۔ عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں سے بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ افغانستان سے تجارت بند ہونے سے صرف وہ تاجر ہی متاثر نہیں ہوئے، جو اس کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کے کسان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات کم ہونے سے ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے اورکئی کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے۔ کارخانوں میں لے آف سے مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک طلبہ یونین کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ملک کی سرکاری یونیورسٹیاں مالیاتی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر متوسط طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنے ایجنڈے میں مظلوم طبقات کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ حزب اختلاف کے اجلاس میں یہ تجویز آئی ہے کہ اراکین اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے گزشتہ دور میں اسمبلیوں سے استعفے دیے۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کو مستعفیٰ ہونے کا سارا فائدہ کسی اور قوت کو ہوا تھا۔ اس اسمبلی سے سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دیدیا۔ اب قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مصائب بیان کرنے والی کوئی آواز موجود نہیں ہے، اس بناء پر حزب اختلاف کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پرکوئی تحریک چلانے کے بجائے عوام کو منظم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدارکے ساتھ حزب اختلاف کی بھی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔ حکمران حزب اختلاف کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے جائزے کے لیے خفیہ اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا مگر حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اگر انھیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت دی جاتی تو وہ زیادہ آسانی سے اظہارِ رائے کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے کچھ مطالبات مان کر ملک میں ایک اچھی سیاسی فضاء پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان خطے کی صورتحال کی بناء پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں لے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل