Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اساتذہ کی تنخواہیں اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے محکمہ خزانہ و دیگر کو مزید کارروائی سے بھی روکتے ہوئے آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کر دیا۔ عدالت نے محکمہ تعلیم و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
سندھ ہائیکورٹ میں اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور دی گئی اضافی مراعات واپس لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست کو پہلے سے دائر درخواستوں کے ساتھ یکجا کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک اساتذہ کی تنخواہ یا پنشن سے کسی قسم کی جبری وصولی نہ کی جائے۔
وکیل درخواست گزار مکیش کمار نے دلائل دیے کہ عدالت اس نوعیت کی درخواست پر پہلے ہی حکم جاری کر چکی ہے، عدالتی حکم کی غلط تشریح نکالی گئی ہے۔
وکیل نے کہا کہ درخواست گزار محکمہ تعلیم میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ ہیں۔ درخواست گزار ڈرائنگ ٹیچرز، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز اور ورکشاپ انسٹرکٹرز کے کیڈرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ متعلقہ اساتذہ کو سروس کے دوران قواعد و ضوابط کے تحت ترقی اور اپ گریڈیشن دی گئی۔
ایڈووکیٹ مکیش کمار نے دلائل میں کہا کہ حکومتِ سندھ کی ٹائم اسکیل پالیسی کے مطابق گریڈ 15 سے 20 تک تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں، محکمہ فنانس نے 21 جنوری کو خط لکھا تھا، خط کے ذریعے ٹائم اسکیل کے فوائد ختم کرنے کا حکم دیا گیا، محکمہ خزانہ نے اضافی ادائیگیوں کی واپسی کی ہدایات جاری کیں۔
وکیل درخواست گزار کے مطابق خط کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بھی عمل درآمد کا مراسلہ جاری کیا، تنخواہوں میں کٹوتی اور دی گئی اضافی رقوم کی واپسی غیر قانونی ہے، کئی اساتذہ تو ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل