Loading
برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جس کے لیے اس ہفتے اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان مذاکرات میں تقریباً 30 ممالک کے فوجی نمائندے شریک ہوں گے جن کا مقصد ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے تاکہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم اس سمندری راستے کو دوبارہ محفوظ بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ بعد ازاں مزید 24 ممالک نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔
ذرائع کے مطابق رواں ہفتے مزید ایک اعلیٰ سطحی اجلاس متوقع ہے جس میں مختلف ممالک کے افواج کے سربراہان شریک ہوں گے اور عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
برطانوی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایڈمرل سر ٹونی راڈاکن نے اتوار کے روز ابتدائی اجلاس کی صدارت کی، جس میں 6 بنیادی ممالک کے علاوہ کینیڈا نے بھی شرکت کی۔
برطانوی عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ اجلاسوں میں مزید ممالک کو بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی جا سکتی ہے جس سے اس مشن کو مزید تقویت ملے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل