Friday, March 27, 2026
 

قذافی اسٹیڈیم کی اداس فضائیں

 



ایسا کوویڈ کے وقت ہوا تھا جب اسٹیڈیم میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، نعروں اور تالیوں کی گونج کا فقدان تھا، اردگرد کی سڑکیں خالی تھیں، اب بھی ویسا ہی ہے، ہاں ایک فرق چہرے پر ماسک کا نہ ہونا ہے، اگر میں آپ سے کہوں کہ کرکٹ نہ ہو یا خالی گراؤنڈ میں ہو جائے کون سا آپشن پسند ہے تو شاید زیادہ تر یہی کہیں گے کہ گھر پر ٹی وی پر میچ دیکھ کر ہی لطف اندوز ہونے کا موقع ملنا غنیمت ہے۔ آپ انڈیا کی ویڈیوز دیکھ لیں پہلے لوگ گیس سیلنڈرز لے کر مارے مارے پھر رہے تھے اب پیٹرول کیلیے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، ایسے میں اگر حکومت پاکستان نے توانائی کی بچت کیلیے پہلے ہی اقدامات کر لیے تو ہمیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے۔ میں نے پی ایس ایل کو شروع سے ہی کور کیا، یو اے ای بھی جاتا رہا لیکن اس بار رنگ پھیکا سا لگ رہا ہے، ہمارے خطے کا جنگی ماحول اس کی وجہ بنا، پی ایس ایل میں صرف چند سو افراد کو ہی اسٹیڈیم میں لائیو میچ دیکھنے کا موقع ملے گا، ایکشن میں آنے والی دونوں ٹیموں اور اسپانسرز کو ایک، ایک ہاسپلیٹی باکس ملا ہے، جہاں اونرز، اہلخانہ اور اسپانسرز وغیرہ موجود ہوں گے، پلیئرز کی فیملیز  بھی میچ دیکھ سکیں گی۔ میں جب اسٹیڈیم آیا تو سیکیورٹی کے ماضی جیسے انتظامات ہی نظر آئے، البتہ ہنستے مسکراتے چہروں، قومی پرچم تھامے بچوں و نوجوانوں کی عدم موجودگی کھل رہی تھی، میڈیا باکس میں صحافی دوست بڑی تعداد میں موجود تھے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک، دو میچ ہو جائیں گے تو پھر ہم کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بات کر سکیں گے اور کراؤڈ نہ ہونے کی بحث تھوڑی کم ہو جائے گی۔ اسٹیڈیم میں وسیم اکرم اور مشتاق احمد سے بھی ملاقات ہوئی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز میچ کی مہمان خصوصی تھیں، بلاشبہ انہوں نے لاہور کی شکل بدل دی ہے، ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دوسرے ملک میں موجود ہیں، کشادہ سڑکیں، ہریالی کچھ بھی دیکھیں تو کہہ اٹھیں گے لاہور لاہور ہے، ہم کراچی والے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دیکھ کر جب لاہور آئیں تو رشک ہی کر سکتے ہیں۔ میچ سے قبل مریم نواز کا ٹیموں اور فرنچائز اونرز سے تعارف کرایا گیا، محسن نقوی بھی ساتھ تھے، ٹرافی لیے وسیم اکرم میدان میں اترے۔ اب میں آپ کو ایک دن پیچھے لیے چلتا ہوں، میں جب لاہور پہنچا تو ایئرپورٹ اور اطراف کی سڑکیں تو دور کی بات ہے اسٹیڈیم کے اردگرد بھی ایسا ماحول نہ نظر آیا کہ اتنا بڑا ایونٹ ہو رہا ہے، کراؤڈ پر پابندی ہے لیکن پی ایس ایل کی تشہیر تو ہو سکتی تھی، بل بورڈز لگاتے کچھ اور کرتے  لیکن شاید پی ایس ایل والوں کو اس کا خیال نہیں آیا۔ کرکٹ ٹیم بھی 11 کھلاڑیوں کی ہوتی ہے لیکن سپرلیگ کا اسٹاف 6،7 افراد پر مشتمل ہے، میں نے ماضی میں بھی کئی بار کہا کہ سلمان نصیر کو اپنی ایک اچھی ٹیم بنانا پڑے گی، لوگوں کو گھر سے بلا کر پارٹ ٹائم کام کرانا ضروری نہیں، آپ تلاش تو کریں باصلاحیت افراد مل جائیں گے۔ خیر یہ پاکستان کی لیگ ہے اسے ہمیں سپورٹ کرنا ہے لیکن ساتھ جو مسائل ہیں ان کی نشاندہی بھی ضروری ہے، جس دن میں لاہور پہنچا تب کپتانوں کی پریس کانفرنس ہونا تھی جس کا آغاز تاخیر سے ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر اعظم، شاہین آفریدی، شاداب خان اور محمد رضوان چاروں کپتان کھوئی فارم کی تلاش میں ہیں، سعود شکیل تو وائٹ بال کرکٹ کھیلتے ہی نہیں، گزشتہ سیزن میں ان کی بیٹنگ انتہائی مایوس کن رہی، فائنل میں رویے پر بھی بحث ہوئی، پک بھی بمشکل ہوئے لیکن خوش قسمت ہیں کہ کپتانی بچ گئی، یہ درست ہے کہ گزشتہ برس ان کی ٹیم فائنل میں پہنچی لیکن اس میں کپتان کا کنٹری بیوشن کچھ نہیں تھا۔ خیر پریس کانفرنس میں بیشتر سوالات بابر اعظم سے ہی ہوئے، برسوں سے آؤٹ آف فارم ہونے کے باوجود اب بھی ان کی برانڈ ویلیو برقرار ہے، ہاں اب کنگ نہیں کہا جاتا، بابر جب واپس جا رہے تھے تو کئی صحافیوں نے ان کے ساتھ سیلفیز بھی بنائیں، ہوٹل میں ٹیموں کے پرچم لگے ہوئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہاں کرکٹرز موجود ہیں، میں وہاں سے آفس چلا گیا جہاں پہلی بار ”اسپورٹس ورلڈ“ شو میں لاہور اسٹوڈیو سے براہ راست حصہ لیا۔ ایک فرنچائز اونر نے ٹیم ڈنر میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی، ہوٹل واپس آ کر پول سائیڈ پر جب اس تقریب میں شریک ہوا تو گورے کرکٹرز کو بھی تکے، کباب، چکن کڑھائی و دیگر پاکستانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے دیکھ کر اچھا لگا، وہ سب آپس میں ہنسی مذاق بھی کر رہے تھے جس سے لگا کہ ماحول سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ ایک پاکستانی اسٹار کرکٹر کے ساتھ کافی دیر تک گفتگو ہوئی، وہاں سے واپس کمرے میں آرام کیلیے گیا تو ایک فرنچائز آفیشل نے کسی سے متعارف کرانے کیلیے لابی میں بلوا لیا، وہاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کو اونر حسن ندیم عمر بھی مل گئے، میں ان کے والدکو کافی عرصے سے جانتا ہوں ، ماضی میں جب کبھی ان کے دفتر گیا اپنے والد کو دیکھ کر وہ نشست سے اٹھ کر ہاتھ باندھ کر احترام سے کھڑے ہو جاتے تھے، ہر چھوٹے بڑے کی عزت کرنا ان کا انداز ہے، ندیم عمر نے اپنے بچوں کی بھی ایسی ہی تربیت کی ہے۔ میچ  کے دن دوپہر میں پی سی بی کے آفس بھی گیا جہاں ایک ملاقات طے تھی، بعد میں ایک دوست سے کافی شاپ میں میٹنگ کے بعد ساتھی میاں محمد اصغر سلیمی کے ساتھ دوبارہ اسٹیڈیم آ گیا جس کی روداد آغاز میں بیان کر چکا ہوں۔ انڈینز افتتاحی تقریب نہ ہونے اور بغیر شائقین کے پی ایس ایل پر ہمارا مذاق اڑا رہے تھے اور اب خود ان کی آئی پی ایل تقریب کے بغیر ہو گی، شاید انہیں بھی کراؤڈ پر پابندی لگانا پڑے، حالیہ مسائل صرف ایک ملک تک محدود نہیں ان کا اثر کسی نہ کسی طرح پوری دنیا پر پڑ رہا ہے، نجانے کتنے عرصے ایسا ہو شاید آئندہ چند ماہ ہمارے خطے میں کرکٹ میچز ایسے ہی کرانا پڑیں،کوویڈ کا وقت بھی گذر گیا تھا یہ بھی گذر جائے گا تب ہی حالات کی بہتری کا انتظار ہی کرتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل