Thursday, April 02, 2026
 

وفاقی حکومت کا براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعتراف

 



وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ خطے کی صورت حال کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری میں 55 فیصد کمی آئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر انچارج برائے وزیر اعظم آفس نے ملکی معاشی صورتحال کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔ ان تفصیلات میں وفاقی حکومت کا براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعتراف کیا اور بتایا کہ موجودہ مالی سال جولائی2025 تا فروری2026 کے دوران خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے۔ وزیراعظم آفس کے عہدیدار نے بتایا کہ پاک افغان کشیدگی، ایران- امریکہ، اسرائیل جنگ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں 22فیصد کمی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد بالترتیب 3166.3اور 4280.3ملین ڈالر رہی۔ دو سالہ غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مدت کے مقابلے میں 35.2فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 3088.7سے کم ہو کر 2409.2ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ ایوان میں پیش کی گئیں تفصیلات میں بتایا گیا کہ مالی سال 2023-2024اور 2024-2025ء کے دوران موجودہ حکومت نے نمایاں معاشی بہتری حاصل کی اور مہنگائی تقریباً 30فیصد سے تیزی سے کم ہو کر تقریبآ 5.5فیصد پہ آ گئی تھی۔ اس کے علاوہ شرح سود 22.5سے کم کر کے 10.5فیصد پر پہنچی، آئی ٹی کی برآمدات سالانہ 3ارچ ڈالر تک پہنچ گئیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل