Loading
عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ کسی کا مجرمانہ ریکارڈ پولیس کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
مبینہ پولیس مقابلے میں لاپتا شہری شاہ میر کی ہلاکت کے کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی، جس کا تحریری حکم نامہ عدالت نے جاری کردیا۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں قرار دیا کہ کسی بھی شخص کا مجرمانہ ریکارڈ پولیس کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
وکیل درخواست گزار نے سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ شاہ میر کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل کیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس مقابلے میں جاں بحق شخص عادی ملزم تھا۔ مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔
عدالت نے کہا کہ بظاہر واقعات کا تسلسل اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ پولیس مقابلہ مشکوک ہے۔ ریکارڈ کے مطابق درخواست 15 جنوری کو دائر کی گئی جبکہ مبینہ مقابلہ 17 جنوری کو پیش آیا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار اور تشدد سے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کی ذمہ داری خود ہی سزا دینے کے بجائے ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر پولیس کو اس نوعیت کے اقدامات کی اجازت دی گئی تو عدالتی نظام کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت ایسے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ مقدمے کی تحقیقات فوری طور پر ایف آئی اے کو منتقل کی جائیں۔ ایف آئی اے قانون کے مطابق 30 یوم میں تحقیقات مکمل کرے۔ تفتیشی افسر درخواست گزار اور دیگر گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے اور فیصلے کی نقول متعلقہ حکام کو فوری ارسال کی جائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل