Monday, April 06, 2026
 

کل نہ تم رہو گے نہ آبنائے ہرمز

 



اٹھائیس فروری کے دن اچانک دو بڑی وارداتیں ہوئیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آئیت اللہ علی خامنہ ای کو بیشتر اہلِ خانہ سمیت تہران میں قتل کر دیا اور تہران سے ساڑھے تیرہ سو کلومیٹر پرے جنوب مغرب میں آبنائے ہرمز کے ساحل سے پچیس کلومیٹر اندر قائم مناب قصبے کے شجرِ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کی ایک سو ستر بچیوں کو یکے بعد دیگرے دو امریکی میزائلوں نے ختم کر دیا۔ تب سے اب تک کے پانچ ہفتے میں آبنائے ہرمز کا نام کرہِ ارض کے لگ بھگ ہر انسان کے کانوں تک شائد پہنچ چکا ہو۔خلیجِ فارس کو براستہ خلیجِ اومان بحرِ ہند سے ملانے والی انتالیس کلومیٹر چوڑی آبنائیِ ہرمز کو گذشتہ ڈیڑھ ہزار برس میں کئی لقب ملے۔ مثلاً عربوں نے جب ایران پر قبضہ کیا تو اس آبنائے کو دو نام عطا ہوئے۔باب السلام ( درِ امن ) اور باب الحدید ( درِ آہن )۔خلیج میں داخلے اور واپسی کے اس دروازے کے نزدیک ایرانی ساحل سے آٹھ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تین اہم جزیرے ہیں۔ان میں سب سے بڑا جزیرہ کیشم ہے۔اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں کی پتھریلی زمین پر جس قدر رنگ بکھرے ہوئے ہیں کرہِ ارض پر شائد ہی کوئی ایسا ارضیاتی نمونہ ملے۔ایک جزیرے کا نام لرک ہے اور ایک جزیرہ ہرمز ہے ( ویسے تو ابو موسی ، تمبِ اکبر و اصغر اور جزیرہ خرگ بھی ہیں مگر وہ آبنائے ہرمز سے فاصلے پر ہیں )۔ جزیرہ ہرمز ایک ایسی ساحلی سلطنت کا تجارتی مرکز رہا ہے جہاں فارس اور میسوپوٹیمیا سے گذرنے والی مقامی اور یورپی و ایشیائی و افریقی مصنوعات کو گوداموں میں رکھا جاتا تھا ( کھجور ، مصالحے ، قیمتی پتھر ، کپڑا ، خوشبویات ، خوراک ، لکڑی ، موتی وغیرہ )۔ ان مصنوعات کی بولی لگتی تھی اور تجارتی کشتیوں میں یہ سامان تمام معلوم دنیا میں آتا جاتا تھا ( تب تلک معلوم دنیا میں کسی شخص نے امریکا کا نام بھی نہیں سنا تھا )۔ ہرمز جزیرے پر سہولہویں صدی میں ( پندرہ سو پندرہ ) پرتگیزیوں نے قبضہ کر کے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔سولہ سو بائیس میں ایرانی صفوی بادشاہت نے جزیرہ واپس لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔یہاں سے گذرنے والے مال پر محصولات میں بھی فریقین کے مابین شراکت داری قرار پائی ( آج ایران اور اومان ہرمز پر محصول لگا کر دراصل صدیوں پرانا آمدنی نظام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں )۔ آبنائے ہرمز کے دوسری جانب صحراِ عرب یا چٹیل علاقہ ہے۔ ان دنوں جہاں کویت ، قطر ، بحرین ، اور امارات قائم ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی ساحلی بستیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماہی گیری اور سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت ہی روزگار کا بنیادی وسیلہ تھا۔ پورے خطے میں انیسویں صدی کے وسط کے بعد انگریزی سامراجی اثر و رسوخ کے سبب تیل کی دریافت بھی برٹش پٹرولیم کمپنی نے کی تھی۔( ایران خطے کا پہلا ملک تھا جہاں انیس سو آٹھ میں تیل کی پیداوار شروع ہوئی )۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتِ برطانیہ کے زوال کے بعد اس علاقے میں آزادی حاصل کرنے والی قوم پرست حکومتوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیل کو قومی ملکیت میں لینا شروع کیا۔کوڑیوں کے مول وسائل سمیٹنے والی مغربی و امریکی تیل کمپنیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی حمائیت سے نیشنلائزیشن کے مقامی رجحان کی خاصی مزاحمت کی۔اس کش مکش کے دوران متعدد حکومتوں کے تختے الٹے گئے۔ تاہم اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو تین ماہ تک تیل کی رسد منقطع ہونے سے جہاں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب یہاں کی حکومتیں اپنے مفاداتی فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔وہیں امریکا اور یورپ نے بھی آیندہ ایسے کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے اس علاقے میں مغرب نواز حکومتوں کو مستحکم کرنا شروع کیا۔یوں تیل کی آمدنی کو پیٹرو ڈالر اور مغربی معیشت سے جوڑ کے ایک نیا کولونیل مالیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ اسرائیل کو عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور عرب ممالک سے تمام تر معاشی فوائد سمیٹنے کے باوجود یہ اہتمام برقرار رکھا گیا کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھاری ٹھیکے بھی ملتے رہیں مگر کسی علاقائی ملک کو ایسا اسلحہ ، مہارت یا طاقت حاصل نہ ہو سکے جس سے اسرائیل کی عسکری برتری چیلنج ہو جائے۔ایران نے چونکہ انیس سو اناسی کے بعد اس نئی گیم کے قوانین ماننے سے انکار کر دیا لہذا اس کے گرد سرخ حصار کھینچ دیا گیا۔ آبنائے ہرمز کی ایرانی سائیڈ پر کوہ ِزاغروس کی چٹانیں ہیں جب کہ اومان کی سائیڈ پر سمندر میں جو نوک سی نکلی ہوئی ہے اسے جزیرہ نما مسندم کہا جاتا ہے۔ جیالوجی کے علم کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ شکل ساڑھے تین کروڑ برس قبل یوریشین اور عربین ارضیاتی پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ایرانی سمت میں کوہِ زاغروس اور اومانی سمت میں کوہِ الہجر وجود میں آیا اور اس اتھل پتھل کے نتیجے میں وجود پذیر نئے ارضیاتی نظام میں جو نشیب پیدا ہوا اسے ہم خلیج کے طور پر جانتے ہیں۔اب سے بیس ہزار برس قبل آخری برفانی دور کے اختتام تک خلیج میں پانی کی مقدار ( برف بتدریج پگھلنے کے سبب ) اتنی اتھلی تھی کہ کئی مقامات پر آرپار چل کے جایا جا سکتا تھا۔  آبنائے ہرمز کی اومانی سائیڈ پر جزیرہ نما مسندم اب بھی حرکت میں ہے یعنی وہ سال بہ سال ایرانی سائیڈ کی جانب کھسک رہا ہے۔ماہرینِ ارضیات کا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ برس بعد ہرمز کی اومانی اور ایرانی سائیڈ ملنے سے آبنائے کا وجود ہی ختم ہو جائے گا اور خلیج ایک خالص جھیل کی شکل اختیار کر لے گی۔  اچھی بات یہ ہے کہ انسان یہ نوبت آنے سے لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہو چکا ہو گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لہٰذا کرہِ ارض کی ان تمام نعمتوں پر جو تم سے پہلے بھی تھیں اور تمہارے بعد بھی رہیں گی جتنا لڑ سکتے ہو ابھی لڑ لو۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل