Monday, April 06, 2026
 

بزرگ والدین اور ان کے مسائل

 



اس وقت بھارت میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ بھارت میں پہلے ہی مینٹی ننس اینڈ ویلفئیر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سیٹیزن ایکٹ 2007 موجود ہے جس کے تحت بچے والدین کی مالی کفالت کے پابند ہیں،بزرگ عدالت سے مدد لے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ،جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔ اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی ،نیزاس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔ اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر بھی ہو گا۔قانون کے تحت ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ بالا قسم کے قوانین موجود ہیں تاہم اس کے باوجودعالمی سطح پر بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے بجائے اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ چین میں اولڈ ہومز میں رہنے والے بزرگوں کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے، جاپان جو دنیا کی سب سے مہذب قوم سمجھی جاتی ہے وہاں چار فیصد کے قریب، برطانیہ میں چار فیصد،یورپ میں چار فیصد سے زائد اور امریکا میں یہ شرح پانچ فیصد کے قریب ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔ بچوں کی اپنے بزرگ والدین سے دوری اور بے اعتنائی کے سبب دنیا میں بزرگوں کی تنہائی (Loneliness of elderly) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گیاہے اور اسی وجہ سے کچھ ممالک نے اس کے لیے خاص وزارت یا سرکاری عہدہ بھی قائم کیا ہے۔ برطانیہ دنیا کا پہلا ملک جس نے 2018 میں Minister for Lonelinessمقرر کیا اس کے بعد2021 میں جاپان نے بھی یہی عہدہ متعارف کرایا۔ دوسری طرف بزرگوں میں خودکشی کی شرح بھی زیادہ ہے۔عالمی سطح پر خودکشی کی اوسط شرح ایک لاکھ آبادی پر تقریباً نو سے بارہ افراد ہے جب کہ بزرگوں میں یہ شرح بیس سے انیس افراد ہے۔ یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ غور کیا جائے تو مغرب یا ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں، اب پاکستان اور بھارت جیسے سب ہی ممالک میں بزرگو ں کے مسائل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو جہاندیدہ افراد کو نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انھوں نے اسمبلی میں یہ بھی کہاکہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔ اب یہ رجحان بھی نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو کمانے کے لیے اور اچھے مستقبل کے لیے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں اور خود تنہا یہاں اپنے گھر میں زندگی گزارتے ہیں گو کہ بچے بیرون ملک سے خرچہ تو بھیج دیتے ہیں مگر بڑھاپے میں اور بیماری کی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال کے لیے اولاد یہاں موجود نہیں ہوتی صرف ویڈیو کال پر خیر خیریت معلوم کر لی جاتی ہے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض گھرانوں میں بچے والدین کو عزت تو دیتے ہیں،خرچہ بھی دیتے ہیں لیکن وقت نہیں دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے والدین کا حق ادا کر دیا جب کہ بزرگوں کو پیسوں سے زیادہ بچوں کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بات کرے، تنہائی ان بزرگ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو اس وقت کسی ایسے گھر میں جہاں بزرگ والدین رہتے ہوں، دو بڑے مسائل ہیں، ایک مسئلہ بزرگوں کا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے اور وہ کسی کو تلاش کرتے ہیں کہ کوئی بات کرنے والا، گفتگو کرنے والا مل جائے، ان میں جو بزرگ چل پھر سکتے ہیں وہ کسی کلب میں، ہوٹل میں یا چوراہے پر اپنے ہم عمر لوگوں میں بیٹھ کر وقت گزار تے ہیں لیکن جو بزرگ چل پھر نہیں سکتے، صرف گھر پر رہتے ہیں انھیں گھر میں وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ عموماً گھر کا ہر فرد مصروف ہوتا ہے۔ موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بے پناہ مصروفیت بھی ہے، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا اور اگر کچھ وقت میسر آجائے تو وہ موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو گھر آئے مہمان کو بھی وقت دینا مشکل ہوگیا ہے، ایک جگہ بیٹھے لوگ آپس میں بھی بات نہیں کرتے بلکہ موبائل میں لگے رہتے ہیں، سو ایسے میں گھر کے بزرگوں کو کہاں سے وقت دیا جائے؟ یوں ہمارا ہاں بھی تنہائی، ہمارے بزرگوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی طرح بہت سے گھروں میں بچے اپنے والدین سے لڑتے ہیںکہ انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اس ضمن میں بعض اپنے والدین سے ہفتوں اورمہینوں بات نہیں کرتے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین غلط ہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ والدین غلط بھی ہوں تو والدین ہوتے ہیں، ان سے ناراضگی کیوں، جب کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں ’’اف ‘‘ بھی نہ کہو۔ظاہر سی بات ہے جب کسی انسان کو کوئی بات بری لگتی ہے یا غلط لگتی ہے تبھی وہ ’’اف‘‘ کہے گا تو اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھاپے میں والدین کی غلط بات کو بھی برداشت کرنا چاہیے ، یہی دین اسلام کا ہم سے مطالبہ ہے۔ بہر کیف بزرگوں کے مسائل ہمارے ہاں بھی توجہ چاہتے ہیں۔ آئیے! اس پر توجہ دیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل